بارشوں اور سیلاب سے تقریباً 300 بچوں سمیت ایک ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت۔ تقریبا 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر
ویب ڈیسک
![]() |
| ہفتہ، 27 اگست صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں ایک پل کے اوپر سے مون سون کی شدید بارشوں کے بعد سیلاب زدہ علاقے کا منظر — اے ایف پی |
مقامی حکام نے ہفتہ کو بتایا کہ 25 اگست سے خیبر پختونخواہ کے ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویژنوں میں سیلاب نے 490 مکانات، 50 ہوٹل، 40 اسکول، 54 پل، لنک سڑکیں، 200 ندیوں کے کنارے اور متعدد گاڑیاں بہا لیں۔
سوات انتظامیہ نے گزشتہ تین دنوں کے دوران ضلع میں سیلاب سے 233 مکانات، 41 اسکولوں، 50 ہوٹلوں اور 24 پلوں کے تباہ ہونے کی اطلاع دی۔
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار میں ہفتے کی رات کو بتایا گیا کہ بارشوں سے آنے والے سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 119 افراد ہلاک اور 71 زخمی ہوئے۔ وفات پانے والوں میں آزاد جموں و کشمیر سے ایک، بلوچستان سے چار، گلگت بلتستان سے چھ، خیبرپختونخواہ سے 31، سندھ سے 76 افراد شامل ہیں۔
این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق 14 جون سے اب تک بارشوں اور سیلاب سے 1,033 افراد ہلاک جبکہ 1,527 زخمی ہو چکے ہیں۔ تقریباََ 3,451.5 کلومیٹر سڑک کو نقصان پہنچا ہے، اور 149 پل گر گئے ہیں، 170 دکانیں تباہ ہو گئی ہیں۔
مجموعی طور پر 949,858 گھر جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں، مجموعی طور پر 662,446 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے، 287,412 مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ جبکہ 719,558 مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے کم از کم 110 اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں جن میں سے 72 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 5,773,063 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم تباہ کاریوں کی ملنے والی اطلاعات سے ایک محتاط اندازے کے مطابق 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔
اتھارٹی نے بتایا کہ 51,275 افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ 498,442 کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے شیئر کیا کہ پاکستان کی 30 سالہ اوسط سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں 134 ملی میٹر بارش ہوئی ہے اور اس سال 388.7 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ اوسط سے 190.07% زیادہ۔


No comments :