کورونا وائرس کے مریض بن کر سات لاکھ روپے حاصل کریں۔ لندن لیبارٹری

کورونا وائرس کے مریض بن کر سات لاکھ روپے حاصل کریں۔ لندن لیبارٹری


کورونا وائرس کے مریض بن کر سات لاکھ روپے حاصل کریں۔ لندن لیبارٹری






coronavirus test





کیا آپ کو کبھی پیسوں کی کمی محسوس ہوئی؟  وہ رضاکار جو کوئین میری بائیو انٹرپرائزز انوویشن سینٹرلندن میں کورونا وائرس یا کوویڈ ۔19 کا علاج تلاش کرنے میں حصہ لیتے ہیں ان کو4500 ٖڈالرجو پاکستانی سات لاکھ سے ذیادہ بنتے ہیں ادا کیے جائیں گے! کیا یہ رقم کسی ناکامی کی صورت میں کسی بڑے نقصان کو پورا کرنے کے لئے کافی ہے؟ یقینا نہیں لیکن اگر اس سے ہمیں ویکسین تیارکرنے میں مدد ملتی ہے تو پھر کسی حد تک یہ خطرہ مول لینا قابل قبول ہوگا۔





تیزی سے پھیلتے ہوئے کورونا وائرس کے لئے ویکسین تیار کرنے کی دوڑ میں برطانیہ میں سائنس دان 24 بہادر رضاکاروں کی تلاش کر رہے ہیں۔





یہ اسٹیفن کنگ کا  تازہ ترین ڈراؤنا ناول نہیں ہےبلکہ یہ طبی تحقیق اور ترقیاتی کمپنی ہوائووجو کوئین میری بائیو انٹرپرائزز انوویشن سینٹرلندن کی مالک ہے، کی ایک کوشش ہے کہ اس مہلک بیماری کے لیےایک ویکسین تیار کی جائے جس نے پوری دنیا میں 6000 سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کردیا ہے۔







منتخب ہونے والوں کے جسم میں وائرس کی دو کمزور اقسام 0 سی 43 اور 229 ای داخل کی جائیں گی جس کی وجہ سے سانس کی ہلکی تکلیف کی علامات پیدا  ہونگی۔ اس کے بعد انہیں نئی ​​یا موجودہ ویکسین دی جائیں گی۔ یہ اقسام اس وقت پوری دنیا میں پھیلنے والے کووڈ-19 سے بہت کم خطرناک ہیں۔





رضاکاروں کو تنہائی میں اور کسی دوسرے شخص سے  جسمانی رابطے یا ورزش کے بغیر دو ہفتوں تک محدود خوراک پر رکھا جائے گا۔





ڈاکٹر حفاظتی لباس اور وینٹیلیٹر پہنیں گے ، مریضوں کا ویکسین  سے متعلق ردعمل کا تجزیہ کریں گے اور اس کے نتائج محققین کو تیز رفتاری سے موثر ترین علاج پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیں گے۔





ایسٹ لندن میں قائم کمپنی ان 20 کمپنیوں میں سے ایک ہے جو عالمی دوڑ میں شامل ہوکر ایسی ویکسین تلاش کررہی ہے جو اگلے موسم سرما تک تیار ہوسکے۔





ہوائوو کے چیف سائنس دان اینڈریو کیچپول نے کہا ہے "دواساز کمپنیاں ویکسین کا جائزہ لینے کے چند ماہ کے اندر ہی  چند لوگوں سے حاصل کیے گۓ نمونے استعمال کرکے نتائج حاصل کرسکتی ہیں"۔





کسی بھی ٹیسٹنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہوائوو کو برطانیہ کی میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی سے منظوری لینا ضروری ہے۔





وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ کی ریاست سیئٹل میں محققین نے بائیو ٹیکنالوجی کمپنی موڈرنا تھراپیٹکس کے تیار کردہ ویکسین کے کلینیکل ٹرائل میں حصہ لینے کے لئے صحتمند رضاکاروں کی بھرتی بھی شروع کردی ہے۔





توقع کی جارہی ہے کہ ویکسین کا ٹرائل اپریل کے آخر میں شروع ہوگا اور اس میں 14 ماہ لگیں گے لیکن رضاکاروں کوقرنطینہ میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ مجموعی طور پر1100 ڈالر وصول کریں گے۔







ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ کورونا وائرس کے پھیلنے کو روکنے کے لئے بروقت کسی ویکسین کی منظوری کا امکان نہیں ہے۔





No comments :