کیا بلڈ پریشر کی دوائیوں سے کووڈ-19 کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے؟

کیا بلڈ پریشر کی دوائیوں سے کووڈ-19 کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے؟


کیا بلڈ پریشر کی دوائیوں سے کووڈ-19 کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے؟











تین اہم نئی تحقیقات کے نتائج کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کو روکنے کے لیے دنیا بھر کے لاکھوں مریضوں کے زیراستعمال دوائیاں سنگین کووڈ 19 انفیکشن کے خطرے میں اضافہ نہیں کرتیں۔





اے سی ای اِن ھِبِٹرز جن میں لیسینوپریل ، اینالاپریل ، اور رامپیریل جیسی دوائیں شامل ہیں، ہائی بلڈ پریشر کی سب سے زیادہ عام طور پر استعمال ہونے والی دوائیں ہیں۔ مریضوں کو اے سی ای اِن ھِبِٹرز یا ہائی بلڈ پریشر کی دوائیوں کی ایک اور مقبول کلاس جس کو انجیوٹینسن-رسیپٹر بلاکرز (اے آر بی) کہا جاتا ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کو بھی اپنے گردوں کی حفاظت میں مدد فراہم کرتی ہیں، پر چھوڑنا کیسا ہے، کووڈ 19 کی وبا کے دوران موضوعِ بحث رہا۔





مریضوں کا بلڈ پریشر کی دوائیوں کے استعمال کے حوالے سے پریشان ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ صحت کے ماہرین نے پرسکون ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو اپنی دوائیوں پر قائم رہنا چاہئے کیونکہ ہائی بلڈ پریشر سے دل کی بیماری ، فالج اور گردے کے نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے تحقیقات کا مطالبہ  بھی کیا ہے۔





جانوروں کے مطالعے سے یہ خدشہ پیدا ہوا تھا کہ یہ دوائیں اے سی ای2 نامی پروٹین کی جسمانی سطح میں اضافہ کرسکتی ہیں ، جس سے کورونا وائرس  انسانی خلیوں پر حملہ کرتا ہے جس سے اس بیماری کا خطرہ بڑھتا ہے۔ لیکن یہ جاننا ابھی باقی ہے کہ یہ دوائیں واقعی انسانی پھیپھڑوں میں  اے سی ای٢ کا اضافہ کرتی ہیں۔





جانوروں کے مطالعے میں پاۓ جانے والے نتائج پرانسانوں کے حوالے سے مختلف تجاویز پائی جاتی ہیں۔ غالباً دوائیں پھیپھڑوں میں سوجن کو کم کرسکتی ہیں اور کرونا وائرس کے مریضوں میں شدید بیماری کے خطرے کو کم کرسکتی ہیں۔





جمعہ کے روز نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن (این ای جے ایم) میں تین نئی تحقیقات شائع کی گئیں۔





یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سان ڈیاگو اسکول آف میڈیسن نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس بات کا تعین کرنے کے لئے کہ آیا اے سی ای اِن ھِبِٹرز کووڈ 19 کے مریضوں کی مدد کر سکتے ہیں، ایک کنٹرولڈ ٹرائل کا تعین کیا گیا ہے۔





کچھ لوگ جو گھر پر اپنا بلڈ پریشر چیک کرتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ یہ بڑھ رہا ہے ، اس سے یہ واضح نہیں تھا کہ یہ تناؤ ورزش کی کمی ، کھانے کی عادات میں بدلاؤ یا اپنی دوائی کو باقاعدہ استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔





اس سوال کے حل کے لیے پہلی تحقیق میں تقریبا 9،000 مریضوں کے طبی ریکارڈوں پر غور کیا گیا جنہوں نے کووڈ-19 کی بین الاقوامی رجسٹری میں داخلہ لیا تھا۔ 20 دسمبر ، 2019 ، اور 29 مارچ ، 2020 کے درمیان ، تین براعظموں کے مریضوں کو 169 اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ آیا بلڈ پریشر کی دوائیں لینے والے افراد میں کورونا وائرس کا انفیکشن یا شدید بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔





این ای جے ایم کے مشترکہ مصنفین نے کہا کہ ہمیں یہ یقین دہانی ہوئی ہے کہ تین مختلف آبادیوں میں مختلف مقاصد کے ساتھ تحقیقات قابل اطمینان نتائج پر پہنچی ہیں۔





این وائی یو گراس مین اسکول آف میڈیسن کی ہارمونی رینالڈز نے کہا کہ انھیں نتائج سے راحت ملی ہے کیوں کہ ان سے پریشان مریضوں نے پوچھا ہے، جنھوں نے پریس رپورٹس پڑھی تھیں ، کہ کیا انہیں اپنی دوائی بند کرنی چاہئے۔





انہوں نے کہا کہ وہ مریضوں کو یہ بتاتے ہوۓ بہت خوش ہیں کہ انہیں بلڈ پریشر کی دوائیں جاری رکھنی چاہیں۔



ذرائع: برینڈا گڈمین، ویب ایم ڈی

ڈینس گریڈی، نیویارک ٹائمز

دی نیوز


No comments :