کے پی کے دو اضلاع مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے احکامات
سیلابی ریلا مُنڈا ہیڈ ورکس پل کو بہاکر لے گیا ہے۔
خیبرپختونخواہ حکومت نے صوبے میں تباہ کن بارشوں سے آنے والے سیلاب کی وجہ سے جمعہ کی رات چارسدہ میں مُنڈا ہیڈ ورکس پل کے گرنے کے بعد دو اضلاع کے لیے "ہنگامی انخلاء کا حکم" جاری کر دیا ہے۔
مُنڈا ہیڈ ورکس پل دریائے سوات کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے۔ پل گرنے سے تحصیل شبقدر اور پرانگ کا ضلع سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ رات گیارہ بجے کے قریب ضلع چارسدہ کے قریب پیش آیا۔ پل ٹوٹنے سے چارسدہ، نوشہرہ اور ملحقہ علاقوں میں سیلاب کا شدید خطرہ ہے۔
مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اور حکام نے سیلاب کی وارننگ جاری کی اور مکینوں سے کہا کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔ لیکن لوگوں نے وارننگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
ڈپٹی کمشنر نوشہرہ میر رضا اوزگن نے ہفتے کے روز ٹویٹ کیا کہ سیلاب نے مُنڈا ہیڈ ورکس کا نصف حصہ تباہ کر دیا اور ڈسچارج کنٹرول کے دو حصے بہہ گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ سیلابی پانی کا بہاؤ تیزی سے نوشہرہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
چارسدہ کے علاقے خیالی میں بڑا سیلاب ہے اور پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ شہری انتظامیہ پھنسے ہوئے شہریوں کو نکالنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ سیلاب متاثرین کی اکثریت پناہ کے لیے شاہراہ پر منتقل ہو گئی ہے جہاں وہ کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔
کے پی حکومت نے فوج سے مدد طلب کر لی ہے کیونکہ صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 238 ہو گئی ہے جن میں 71 بچے اور 55 خواتین شامل ہیں۔
اس کے علاوہ دریائے سوات میں غیر معمولی سیلابی صورتحال سے 800 میگاواٹ کا مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی متاثر ہوا۔ مہمند ڈیم دریائے سوات پر بنایا جا رہا ہے، جو ضلع مہمند میں مُنڈا ہیڈ ورکس پل سے تقریباً پانچ کلومیٹر اوپر ہے۔ منصوبے کی کل لاگت 309.6 ارب روپے ہے۔
واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق "سیلاب کا پانی حفاظتی بند کو توڑ کر ڈائیورشن ٹنل میں داخل ہوا جس سے منصوبے کی تعمیراتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔" واپڈا کے مطابق آنے والے گھنٹوں میں دریائے سوات میں غیر معمولی طور پر تیز پانی کے بہاؤ کا خدشہ ہے۔
ڈی سی نوشہرہ میر رضا اوزگان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اس نازک وقت میں عوام کا تعاون چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو کئی علاقوں سے شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ لوگ انخلاء کے عمل میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔


No comments :