پاکستان دوسروں کے پیدا کردہ مسائل کی قیمت چُکا رہا ہے۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ یہ یکجہتی اور سخاوت کا نہیں بلکہ انصاف کا سوال ہے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے ہفتے کے روز کہا کہ ان کی تنظیم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے ساتھ 'قرض کے تبادلے' کی پرزور وکالت کرے گی جس کے ذریعے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک غیر ملکی قرض دہندگان کو قرضے واپس کرنے کے بجائے وہ رقم آب و ہوا کی بہتری، پائیدار انفراسٹرکچر اور اپنی معیشتوں کی بحالی کے لیے استعمال کر سکیں گے۔
جمعہ کے روز انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی مدد کرے کیونکہ وہ تباہ کن سیلاب کے بعد حالات سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر مالی امداد کی ضرورت ہے۔
کچھ دن پہلے، وزیر اعظم شہباز شریف نے متنبہ کیا تھا کہ ملک کو 33 ملین پاکستانیوں کی بحالی کے لئے "کھربوں روپے" کی ضرورت ہوگی جنہوں نے بڑھتے ہوئے پانی سے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کو بہتے ہوئے دیکھا ہے۔
تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوۓ اس کے علاوہ تقریباً 10 لاکھ مویشی لقمہ اجل ہونے کے ساتھ ساتھ گھر، فصلیں، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ حالیہ تخمینے کے مطابق تقریباً 20 بلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔
سکریٹری جنرل نے کہا ، "معاشی نقصانات کی عکاسی کرنے والے اعداد و شمار خوفناک ہیں۔ لیکن تعداد سے بڑھ کر، میں ایسے خاندانوں کو دیکھ رہا ہوں جنہوں نے اپنے پیاروں، گھر، فصلیں، نوکریاں کھو دی ہیں اور مایوس کن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں"۔
اگرچہ اقوام متحدہ نے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کی مدد کے لیے فنڈز کے لیے ہنگامی سطح پر اپیل شروع کی ہے، اور بہت سے ممالک نے امدادی سامان جیسے خیمے اور خوراک کے ساتھ بحری جہاز بھیجے ہیں، اور اس سانحے پر دنیا کا اب تک کا جذبہِ ہمدردی قابلِ اطمینان رہا ہے۔
گوٹیریس نے کراچی کے پرانے ہوائی اڈہ آمد پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہم یہاں پاکستان میں دیکھ رہے ہیں کہ قدرت نے ہمارے سامنے تباہی کے ناقابلِ بیان مناظر کھینچے ہیں،‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’میں نے دنیا میں بہت سی آفات دیکھی ہیں لیکن میں نے کبھی اس پیمانے پر موسمیاتی قتلِ عام نہیں دیکھا‘‘۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ آج جو کچھ انہوں نے دیکھا ہے ان کے پاس بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "اس دورے کے دوران میرے لیے سب سے جذباتی لمحہ عورتوں اور مردوں کے ایک گروپ کو سننا تھا جنہوں نے بچاؤ کا امکان ہونے کے باوجود اپنے مال کی قربانی دی" ۔
آفت کے مارے لوگوں کو دیکھ کر مجھے گہرا صدمہ ہوا ہے۔ میں پاکستانی حکام، سویلین اور ملٹری فورسز، قومی اور علاقائی تنظیمون کی عظیم کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں"۔
Beyond the human suffering of the affected people in Pakistan, I have also seen great heights of heroism.
— António Guterres (@antonioguterres) September 10, 2022
I thank the civil society, humanitarian organizations, and the UN teams who have rushed in, for their tireless work.
We stand in solidarity with the people of Pakistan. pic.twitter.com/eFzBoOecxo
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ یکجہتی اور سخاوت کا نہیں بلکہ انصاف کا سوال ہے"۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جی-20 کی قیادت میں تمام ممالک کو ہر سال اپنی آلودگی کے اخراج میں کمی کے اہداف کو بڑھانا چاہیے تاکہ 1.5 ڈگری سیلسیس وارمنگ کی حد کو یقینی بنایا جا سکے۔
![]() |
| قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس ہفتہ 10 ستمبر کو پاکستان سے روانگی سے قبل کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ فوٹو: اے پی پی |
پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے ایک فیصد سے بھی کم اخراج کا ذمہ دار ہے، لیکن غیر سرکاری تنظیم جرمن واچ کی طرف سے مرتب کی گئی فہرست میں شدید موسمیاتی تباہی کے نشانے پر ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں واضح طور پر مطالبہ کر رہا ہوں کہ دنیا کو ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان ترقی پذیر ممالک جو انتہائی مشکل مالیاتی صورتحال سے نبرد آزما ہیں کے لیے ہمہ جہت ریلیف کا پروگرام ترتیب دینا چاہیے۔


No comments :