بدھ کو تین خواتین
اور 11 مردوں کو افغان عدالت کی جانب سے 'چوری' اور 'اخلاقی جرائم' کا مجرم قرار دینے
کے بعد کوڑے مارے گئے۔
کوڑے مارنے کی تصدیق اس وقت ہوئی جب طالبان کے سپریم
لیڈر نے رواں ماہ ججوں کو اسلامی قانون یا شریعت کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا حکم دیتے
ہوئے کہا کہ بعض جرائم کے لیے جسمانی سزا لازمی ہے۔
صوبہ لوگر کے اطلاعات و ثقافت کے سربراہ قاضی رفیع
اللہ صمیم نے کہا کہ کوڑے مارنے کی سزا سرعام نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 14 افراد کو صوابدیدی سزائیں دی
گئیں جن میں 11 مرد اور تین خواتین شامل ہیں اور سزا میں کم سے کم کوڑوں کی تعداد
21 اور زیادہ سے زیادہ 39 رکھی گئی۔ سپریم
لیڈر ہیبت اللہ اخندزادہ نے رواں ماہ ججوں کو اسلامی قانون کے ان پہلوؤں پر مکمل عمل
درآمد کرنے کا حکم دیا جن میں سرعام پھانسی، سنگسار، کوڑے اور چوروں کے اعضاء کاٹنا
شامل ہے۔
طالبان کے مرکزی ترجمان کے مطابق انہوں نے کہا کہ
چوروں، اغوا کاروں اور بدمعاشوں کی فائلوں کو غور سے دیکھیں، وہ فائلیں جو حدود اور
قصاص کی تمام شرعی شرائط پر پوری اترتی ہوں، آپ ان پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔
سوشل میڈیا پر مہینوں سے طالبان جنگجوؤں کی مختلف
جرائم کے لیے لوگوں کو کوڑے مارنے کی ویڈیوز اور تصاویر کی بھرمار ہے۔ تاہم یہ پہلا
موقع ہے جب حکام نے عدالت کی طرف سے سنائی گئی اس طرح کی سزا کی تصدیق کی ہے۔ تمام
ممالک دو دہائیوں کی شورش کے بعد اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے انسانی حقوق
اور خواتین کے حقوق پر طالبان کے ٹریک ریکارڈ پر تنقید کر رہے ہیں۔
کسی بھی غیر ملکی حکومت نے طالبان انتظامیہ کو باضابطہ
طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، اور بہت سے لوگ پہلے ہی مارچ میں ملک بھر میں لڑکیوں کے
لیے سیکنڈری اسکول کھولنے کے وعدے سے پیچھے ہٹنے پر تنقید کر چکے ہیں۔
تنقیدی خیالات کا اظہار
اس واقعے پر عالمی میڈیا اور حکام نے مختلف انداز
میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
افغانستان میں خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کے
لیے امریکی خصوصی ایلچی رینا امیری نے حکمران اسلام پسند طالبان پر تنقید کی ہے کہ
وہ خواتین سمیت لوگوں کو چوری اور زنا جیسے "اخلاقی جرائم" کے لیے سرعام
کوڑے مارتے ہیں۔
انہوں نے ٹویٹر پر کہا "یہ ایک خوفناک اور خطرناک
علامت ہے کہ طالبان دنیا کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ وہ ماضی کی پالیسیوں کو اپنا رہے
ہیں"۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے طالبان پر زور دیا کہ وہ فوری
اور غیر مشروط طور پر سرعام کوڑے مارنے اور جسمانی سزا کی دیگر تمام اقسام کے
"مجرمانہ رواج" کو ختم کریں۔ حقوق کے نگراں ادارے نے منصفانہ ٹرائلز اور
قانونی توجیہات تک رسائی کے ساتھ باضابطہ انصاف کے نظام کو رائج کرنے کی ضرورت پر زور
دیا۔
ایمنسٹی کے مطابق، "طالبان وسیع پیمانے پر ہونے
والی تنقید کو نظر انداز کر رہے ہیں کیونکہ وہ واضح طور پر انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں
کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں جو کہ دہائیوں پہلے کی ان کی حکمرانی کی سنگینی
یاد تازہ کرتا ہے"۔
ڈیلی میل نے طالبان کوغنڈے قرار دیتے ہوۓ سرخی شائع کی، "تین مزید خواتین اور 11 مردوں
کو طالبان کے غنڈوں نے 'چوری' اور 'اخلاقی جرائم' کے الزام میں کوڑے مارے"۔
بی بی سی نیوز کے مطابق
"یہ اقدام 1990 کی دہائی میں طالبان کے سابقہ دور حکومت میں نظر آنے والے سخت گیر طریقوں کی طرف
واپسی کا اشارہ ہو سکتا ہے"۔

No comments :