ذہانت سے زیادہ ہوشیار ہونا کیوں ضروری ہے؟

ذہانت سے زیادہ ہوشیار ہونا کیوں ضروری ہے؟

 ذہانت
سے زیادہ ہوشیار ہونا کیوں ضروری ہے؟



تحریر:
ڈیوڈ رابسن - بی بی سی نیوز



ترجمہ۔
پروبنگ لائٹ




متعدد
نفسیاتی عوامل تخلیقی صلاحیتوں اور بصیرت کے حیران کن کارناموں کو سرانجام دینے کے
لیے درکار ہوتے ہیں۔



انیس
صد بیس کی دہائی کے آخر میں، محنت کش طبقے کا ایک نوجوان لڑکا جو رِٹی کے نام سے مشہورتھا،
اپنا زیادہ تر وقت نیویارک کے راک وے میں اپنے والدین کے گھر "لیبارٹری"
میں پرانی چیزوں کو مرمت کرنے کی کوشش میں گزارتا تھا۔



اس کی
لیب لکڑی کا ایک پرانا پیکنگ باکس تھا، جو شیلفوں سے لیس تھا جس میں سٹوریج کی بیٹری
اور لائٹ بلب، سوئچز اور ریزِسٹرس کا برقی سرکٹ تھا۔  اس کی سب سے قابل فخر ایجادات میں سے ایک الارم تھا،
جب بھی اس کے والدین اس کے کمرے میں داخل ہوتے تھے تو یہ الارم اسے خبردار کرتا تھا۔
اس کے پاس ایک خوردبین تھی جس کی مدد سے وہ قدرتی دنیا کا مشاہدہ کرتا رہتا اور بعض
اوقات اپنے کیمسٹری باکس کو دوسرے بچوں کو کرتب دکھانے کے لیے گلی میں لے جاتا۔



رٹی
کا ابتدائی تعلیمی ریکارڈ کچھ قابل ذکر نہیں تھا۔ اس نے ادب اور غیر ملکی زبانوں کو
سیکھنے کے لیے بھی جدوجہد کی۔ جب کہ بچپن میں لیے گئے آئی کیو ٹیسٹ میں اس نے مبینہ
طور پر 125 کے قریب اسکور کیے۔  جو اوسط سے
زیادہ تو ہیں لیکن کسی بھی طرح باصلاحیت ہونے کی نشانی نہیں ہے۔   نوجوانی
کے دنوں میں اسے ریاضی سیکھنے کا شوق پیدا ہوا تو اس نے سکول میں پڑھائی جانے والی
ریاضی کی کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا اور اس کی مشقوں کو حل کرنے لگا۔  جلد ہی وہ ریاضی میں مہارت حاصل کر چکا تھا۔  لہذا ہائی سکول کے اختتام پر ریاست بھر میں ہونے
والے ریاضی کے مقابلوں میں اس نے سب سے زیادہ نمبر حاصل کرکے ایک ریکارڈ بنا ڈالا۔



آج کی
تاریخ میں دنیا ریٹی کو نوبل انعام یافتہ ماہر طبیعیات رچرڈ فین مین کے طور پر جانتی
ہے۔ ان کے کوانٹم الیکٹروڈائنامکس کے نئے نظریے نے ذیلی ایٹمی ذرات کے مطالعہ میں انقلاب
برپا کردیا۔



دوسرے
سائنس دانوں نے فین مین کے دماغی کاموں کو ناقابل تسخیر قرار دیا۔ اپنے ساتھیوں کے
نزدیک وہ تقریباً مافوق الفطرت صلاحیتوں کا حامل دکھائی دیتا تھا، جس کی وجہ سے پولش-امریکی
ریاضی دان مارک کیک نے اپنی سوانح عمری میں یہ اعلان کیا کہ فین مین صرف ایک عام باصلاحیت
ماہر طبیعات نہیں تھا، بلکہ "اعلیٰ ترین صلاحیت کا جادوگر" تھا۔



کیا
جدید نفسیات اس جادو کو ڈی کوڈ کرنے اور باصلاحیت افراد کی تخلیقات کو عام طور پر سمجھنے
میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟



ذہانت کی اصطلاحی وضاحت کرنا ایک خاصا مشکل کام ہےکیونکہ اس
کے لیے کوئی واضح پیمائشی معیار نہیں ہے۔ لیکن زیادہ تر تعریفیں کم از کم ایک ڈومین
میں غیر معمولی کامیابی کے ساتھ اور اس کی حقیقی اور فطری قابلیت کے ساتھ ذہانت کی
شناخت کرتی ہیں، اور اس شناخت کو اسی شعبے کے دوسرے ماہرین تسلیم کرتے ہیں۔  ذہانت کی یہ وضاحتیں بہت سی مزید پیشرفت کو آگے بڑھا
سکتی ہیں۔



ذہانت کی ابتداء اور اس کی آبیاری کے بہترین ذرائع کی نشاندہی
کرنا اور بھی مشکل کام رہا ہے۔ کیا یہ اعلیٰ عمومی ذہانت کی پیداوار ہے؟ لامحدود تجسس؟
ہمت اور عزم؟ یا یہ خوش قسمت حالات کا خوش قسمت مجموعہ ہے جسے مصنوعی طور پر دوبارہ
بنانا ناممکن ہے؟ غیر معمولی افراد کی زندگیوں پر تحقیق – بشمول نوبل انعام یافتہ افراد
جیسے کہ رچرڈ فین مین کے مطالعے – کچھ سراغ فراہم کر سکتے ہیں۔





style="display:block"
data-ad-client="ca-pub-1387472932169628"
data-ad-slot="5236684156"
data-ad-format="auto"
data-full-width-responsive="true">



ٹرمیٹیز



آئیے جینیٹک اسٹڈیز آف جینیئس سے شروع کرتے ہیں جو کہ 20ویں
صدی کے اوائل میں اسٹینفورڈ گریجویٹ اسکول آف ایجوکیشن میں مقیم ایک ماہر نفسیات لیوس
ٹرمین کی قیادت میں ایک بہت بڑا بامقصد منصوبہ ہے۔



ٹرمین آئی کیو ٹیسٹ کے ابتدائی علمبردار تھے، جنہوں نے 19ویں
صدی کے آخر میں تیار کردہ بچوں کی تعلیمی اہلیت کے فرانسیسی پیمانہ کا ترجمہ کیا اور
اسے اپنایا۔ سوال نامے میں مختلف صلاحیتوں کو مدنظر رکھا گیا مثلاً الفاظ کا ذخیرہ،
ریاضی اور منطقی استدلال، جو کسی کی سیکھنے اور اخذ کرنے کی صلاحیت کی پیمائش کرنے
کے لیے فرض کیے گئے تھے۔ اس کے بعد ٹرمین نے ہر سال ایک مخصوص گروپ کے حاصل کردہ اوسط
سکور کا اندراج کیا جس سے وہ کسی بھی بچے کے نتائج کا موازنہ کر کے ان کی ذہنی عمر
کی شناخت کر سکتا تھا۔ پھر آئی کیو سکور کا حساب ذہنی عمر کو تاریخی عمر سے تقسیم کر
کے اور اس تناسب کو 100 سے ضرب دے کر لگایا گیا۔





مثال کے طور پر ایک 10 سالہ بچہ جس نے اوسطاً 15 سال کی عمر
کے برابر اسکور کیا اس کا آئی کیو 150 ہوگا۔  ایک 10 سالہ بچہ جو نو سال کے بچے کی طرح استدلال
کرتا ہے اس کا آئی کیو 90 ہوگا۔



ایسا لگتا ہے کہ آئی کیو سکور کے گراف ایک "نارمل ڈسٹری
بیوشن" بناتے ہیں، جس کی شکل 100 پوائنٹس کے اوسط اسکور پر مرکوز ایک گھنٹی کی
طرح ہوتی ہے۔ یعنی اتنے ہی لوگ اوسط سے نیچے ہیں جتنے اوپر۔ اور کسی کا آئی کیو سکور
کسی بھی ایک طرف انتہا پر ہونا ناقابل یقین حد تک نایاب ہے۔



ٹرمین نے اس موضوع پر ایک مضمون میں لکھا ہے کہ "کسی فرد
کے بارے میں کوئی بھی چیزاتنی اہم نہیں ہے جتنی اسکی آئی کیو" اور پیش گوئی کی
کہ بچے کا اچھا آئی کیو سکور بعد کی زندگی میں بڑی کامیابی کی پیش گوئی کرتا ہے۔



انیس صد بیس کی دہائی کے اوائل میں ٹرمین نے کم از کم 140 کے
آئی کیو کے بچوں پر مشتمل کیلیفورنیا کے اسکولوں کی فہرست بنانا شروع کی۔ آئی کیو
140 کو وہ اعلیٰ ذہانت کی دہلیز سمجھتا تھا۔ 1,000 سے زیادہ بچے یہ گریڈ حاصل کرنے
میں کامیاب رہے۔  یہ ایک ایسا گروپ تیار ہوا
جس کی ذہنی پیمائش کا مشاہدہ اس کے لیے اور اس کے 
دوسرے ساتھیوں کے لیے اگلی سات دہائیوں تک مطالعہ ذخیرہ ثابت ہوا۔



ان میں سے بہت سے "ٹرمیٹیز"، جیسا کہ وہ پیار سے جانے
جاتے تھے، کامیاب کیریئر کے لیے آگے بڑھے۔ مثال کے طور پر شیلے اسمتھ مائیڈنز، ایک
جنگی رپورٹر اور ناول نگار اور جیس اوپن ہائیمر، ایک پروڈیوسر اور مصنف جو کامیڈین
لوسیل بال کے ساتھ اپنے کام کے لیے مشہور ہوئے۔ (لوسیل بال نے اسے اپنی مشہور ہٹ سیریز
آئی لو لوسی کے پیچھے کارفرما "دماغ" کہا)۔  1950 کی دہائی کے آخر میں ٹرمن کی موت کے وقت تک
تیس سے زیادہ لوگوں نے بااثر لوگوں پر مشتمل کتاب 'ہو از ہو ان امریکہ' میں جگہ بنائی-
اور تقریباً 80 افراد کا امریکہ کے سب سے ممتاز سائنسدانوں پر لکھی گئی کتاب 'امریکن
مین آف سائنس' میں حوالہ دیا گیا۔



تاہم جب آپ اعداد و شمار کو غور سے دیکھتے ہیں تو یہ اعدادوشمار
اس خیال کے لیے مضبوط دلیل پیش نہیں کرتے کہ اعلی آئی کیو والے لوگوں کے مقدر میں عظمت
لکھ دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ٹرمیٹیز کے خاندانوں کے لیے سماجی اقتصادی مسائل جیسے
ممکنہ طور پر درپیش عوامل پر قابو پانا ضروری ہے۔ تعلیم یافتہ والدین اور زیادہ گھریلو
وسائل والے بچے آئی کیو ٹیسٹ میں بہتر اسکور حاصل کرتے ہیں، اور یہ عوامل بعد کی زندگی
میں کامیابی حاصل کرنا آسان بنا سکتے ہیں۔  جب اس پر غور کیا گیا تو ٹرمیٹیز نے ایک جیسے پس
منظر کے بچوں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔



دیگر تجربات میں ٹرمین گروپ کے اندر آئی کیو کے فرق کو جانچا
گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا سب سے زیادہ سکور کرنے والوں کے کامیاب ہونے کے امکانات
ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تھے جنہوں نے صرف معمولی اسکور حاصل کیے تھے۔  جب کہ ایسا بالکل نہیں تھا۔  جب ڈیوڈ ہنری فیلڈ مین نے پیشہ ورانہ امتیاز کے اقدامات
کا جائزہ لیا، جیسے کہ وکیل کو جج بنایا جانا، یا ایک معمار کا باوقار ایوارڈ جیتنا،
تو 180 سے زیادہ آئی کیو والے لوگ 30 سے 40 پوائنٹس کم اسکور کرنے والوں کے مقابلے
میں کچھ ہی زیادہ کامیاب تھے۔ اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ "اعلیٰ آئی کیو، لفظ کے
عام طور پر سمجھے جانے والے معنی میں 'جینیئس' ہونے کی نشاندہی نہیں کرتا"۔



یہ پوائنٹ بھی قابل توجہ ہے کہ ٹرمین کی ابتدائی تحقیق نے کیلیفورنیا
کے دو لڑکوں ولیم شاکلی اور لوئس والٹر الواریز کو مسترد کر دیا تھا جنہوں نے فزکس
کا نوبل انعام جیتا تھا، جب کہ آئی کیو میں گریڈ حاصل کرنے والے بچوں میں سے کسی کو
بھی ایسا مقام حاصل  نہیں ہوا۔



نیو یارک میں پرورش پانے والے رچرڈ فائن مین کو کبھی بھی کیلیفورنیا
میں ہونے والے 'جینیٹک اسٹڈیز آف جینیئس' میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا۔  یہاں تک کہ اگر وہ اسٹینفورڈ کے قریب بھی رہتا ہوتا
جہاں ٹرمین مقیم تھا، اس کے بچپن کے مبینہ آئی کیو اسکور 125 کا مطلب یہی ہوتا کہ وہ
کبھی بہتر کارکردگی پیش نہیں کرسکتا۔





style="display:block"
data-ad-client="ca-pub-1387472932169628"
data-ad-slot="5236684156"
data-ad-format="auto"
data-full-width-responsive="true">



ایک کثیر الجہتی ذہن



لیکن ٹرمیٹیز کی زندگی کی کہانیوں کو مدنظر رکھتے ہوۓ سائنسی
ٹول کے طور پر آئی کیو کی افادیت کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگرچہ اس کے نتائج حتمی
نہیں ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس کے اسکور کا تعلق لوگوں کو حاصل تعلیمی مواقع اور
آمدنی سے ہے۔ یہ یقینی طور پر کسی کو ایسے تصورات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے جو
بہت سے شعبوں میں اہم ہیں، خاص طور پر وہ جو ریاضی، سائنس، انجینئرنگ یا فلسفہ میں
ہیں۔



لیکن جب بات ان غیرمعمولی کامیابیوں کی پیشین گوئی کی ہو جس
سے کسی کو بڑا ذہین سمجھا جا سکتا ہے تو یہ تصویر کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ محسوس ہوتا
ہے۔



ذہانت کا بنیادی معیار حقیقی طور پر سوچنے اور اپنے شعبے میں
کچھ قابل قدر اضافہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ ذہانت کے ٹیسٹوں میں عام طور پر زبانی اور غیر
زبانی استدلال کی جانچ کرنے والے سوالات شامل ہوتے ہیں، اور ان کا اکثر ایک ہی صحیح
جواب ہوتا ہے۔  جس سے تخلیقی صلاحیتوں کے کچھ
اہم عناصر شامل ہونے سے رہ جاتے ہیں، جیسے 'مختلف سوچ'، جو کہ نئے خیالات پیدا کرنے
کی صلاحیت ہے۔



مجموعی طور پر تخلیقی کامیابی کی پیمائش کرنے کے لیے ماہرین
نفسیات نے تفصیلی سوالنامے تیار کیے ہیں جو لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ مختلف تخلیقی
سرگرمیوں میں کتنے مشغول رہتے ہیں۔  جیسے ادبی
سرگرمی، موسیقی ترتیب دینا، عمارتوں کا نقشہ بنانا یا سائنسی نظریات تجویز کرنا۔  اہم طور پر ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ ان پروجیکٹس
کے لیے شناخت کی فہرست بنائیں- مثال کے طور پر ان کے کام کو کبھی انعام سے نوازا گیا
ہو یا انھوں نے میڈیا کوریج کو اپنی طرف متوجہ کیا ہو۔  ہزاروں شرکاء نے اب تک متعدد تجربات کے لیے یہ سوالنامے
پُر کیے ہیں، اور وہ سب یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان اقدامات کے حوالے سے شرکاء کے اسکور
کے ساتھ آئی کیو کا معمولی تعلق ہے۔



ان نتائج کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ عظیم تخلیقی کامیابیوں
کے لیے ذہانت ضروری ہے لیکن کافی نہیں۔ اگر آپ کا آئی کیو سکور زیادہ ہے تو تخلیقی
بصیرت کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ لیکن آپ کی اوسط سے زیادہ ذہانت کو بہت سی دوسری
خصلتوں کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے تاکہ حقیقی اور قابل ذکر چیز سامنے آ سکے۔ اس سے یہ
کہنے میں مدد ملے گی کہ ٹرمیٹیز کی اکثریت نے اس طرح کی تاریخ کیوں نہیں بنائی جس طرح
پیش گوئی کی گئی تھی۔ غیرمعمولی طور پر اعلیٰ ذہانت کے باوجود ان میں وہ دوسری خوبیاں
نہیں تھیں جو ایک 'جینیئس' کے لیے ضروری ہیں۔



وہ دیگر ضروری خوبیاں کیا ہو سکتی ہیں اس کے بارے میں ہماری
سمجھ ابھی تک مستحکم نہیں ہے، لیکن ایک اہم خوبی تجسس ہے۔ تجسس کو سوالنامے کے ذریعے
جانچا جا سکتا ہے کہ لوگ نئے آئیڈیاز کو دریافت کرنے اور نئے تجربات کرنے سے کتنا لطف
اندوز ہوتے ہیں، اور وہ لیبارٹری میں دماغی آزمائش کے کاموں اور اپنی ذاتی زندگی میں
زیادہ کتنے تخلیقی دکھائی دیتے ہیں؟



تخلیقی ذہانت کے لیے تجسس کی اہمیت کو ممتاز شخصیات کے کیس اسٹڈیز
میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ان لوگوں سے ذاتی نوعیت کے سوالنامے مکمل کرانا ہمیشہ
ممکن نہیں ہوتا، لیکن محققین نے سوانح نگاروں کو، جو ان کی زندگی کے مختصر حالات سے
واقف ہوتے ہیں، ان کی جانب سے ایسا کرنے کو کہا۔  سوانح نگاروں نے دانشورانہ دلچسپی اور کھوج سے متعلق
خصائص پر اپنے مضامین کو غیر معمولی طور پر تشکیل دینے کا رجحان رکھا۔  مثال کے طور پر 20 ویں صدی کے جاز موسیقار جان کولٹرن
مذہبی عقائد میں گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔ عیسائیت، بدھ مت، ہندو مت اور اسلام کا مطالعہ
کرتے تھے، جس کے بہت سے اثرات ان کی موسیقی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔



تجسس کسی کو جینیئس کے حصول میں کس طرح مدد دے سکتا ہے؟ علم
کی بھوک یقینی طور پر آپ کو اپنے شعبہ تحقیق کے اندر حدود سے تجاوز کرنے کی ترغیب دیتی
ہے، جب کہ دوسرے لوگ اس شعبہ میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے اسے جلد چھوڑ جاتے ہیں۔
تجسس کسی کی حوصلہ افزائی بھی کر سکتا ہے کہ وہ اپنے افق کو اپنی مہارت سے زیادہ بڑھائے،
جس کے اپنے فوائد ظاہر ہوتے ہیں۔



مثال کے طور پر نوبل انعام یافتہ سائنسدان عام فرد کے مقابلے
میں تقریباً تین گنا زیادہ ذاتی مشاغل کی فہرست ترتیب دیتے ہیں اور وہ خاص طور پر موسیقی،
پینٹنگ، یا شاعری لکھنے جیسے تخلیقی کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ مشغلے دماغ کو خیالات
پیدا کرنے اور ان کو بہتر بنانے کی تربیت دے سکتے ہیں، جو سائنسدان کے بنیادی تحقیقی
کام میں اصل بصیرت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

 متعدد شعبوں میں مہارت آپ کو مسائل کو   مختلف نقطہ نظر سے دیکھنے کی صلاحیت تفویض کرتی ہے، جس سے اصل بصیرت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔



متعدد دلچسپی کے امور خیالات کے اتفاقی کراس پولینیشن کا باعث
بھی بن سکتے ہیں۔  مثال کے طور پر کیمسٹ ڈوروتھی کروفٹ ہڈکن نے ایکسرے کرسٹالوگرافی میں اپنی پیشرفت کے لیے نوبل انعام جیتا، اپنی تحقیق
میں اس نے پینسلین اور وٹامن بی 12 جیسے حیاتیاتی کیمیائی مادوں کی ساخت کو معلوم کیا
تھا۔ تاہم، نوجوانی سے ہی اسے بازنطینی موزیک میں گہری دلچسپی تھی، اور ان کی ہم آہنگی
اور جیومیٹری کے بارے میں اس کے علم نے بظاہر اسے یہ سمجھنے میں آسانی فراہم کی کہ
مالیکیولز کے دہرائے جانے والے نمونوں کو کرسٹل میں کیسے ترتیب دیا جا سکتا ہے، اور
یہ اس کی سائنسی تحقیق کے لیے اہم تھا۔



جیسا کہ دی پولی میتھ کے مصنف وقاص احمد کہتے ہیں: "کسی
بھی شعبے میں آپ کو کچھ نیا کرنے کے لیے، آپ کو اس شعبے کو وسیع ترین عینک سے دیکھنے
اورعلم کے زیادہ سے زیادہ ذرائع حاصل کرنے کی ضرورت ہے"۔  مختلف شعبوں میں مہارت آپ کو مسائل کو   مختلف نقطہ
نظر سے دیکھنے کی صلاحیت تفویض کرتی ہے، جس سے اصل بصیرت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ وہ
مایا اینجلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ایک شاعرہ، صحافی، اداکارہ، فلم ساز، اور شہری
حقوق کی کارکن تھی جس نے بطور رقاصہ اور گلوکارہ بھی کام سے لطف اٹھایا تھا اور جو
پولی میتھ کی ایک جدید مثال ہے۔ جس کی متعدد دلچسپیوں نے اس کی حیرت انگیز تخلیقی صلاحیتوں
کو نکھار دیا تھا۔



رچرڈ فین مین کی زندگی یقینی طور پر ان رجحانات سے مطابقت رکھتی
ہے۔ بچپن کے اس سارے وقت کے بارے میں سوچیں جو اس نے اپنی لیبارٹری میں چیزوں کی مرمت
میں گزارا، متعدد شعبوں میں مختلف پروجیکٹس پر کام کیا۔  اور ایک بالغ ہونے کے ناطے، اس نے خود کو ڈرائنگ
کرنا، طبلہ بجانا، پرتگالی اور جاپانی زبان بولنا، اور ہائروگلیفز پڑھنا سکھایا (شکلوں
کے ذریعے لفظوں یا آواز وغیرہ کی پہچان کرنا)، اورحتی کہ جینیات میں ایک ضمنی منصوبے
پر بھی کام کیا۔





style="display:block"
data-ad-client="ca-pub-1387472932169628"
data-ad-slot="5236684156"
data-ad-format="auto"
data-full-width-responsive="true">



ایک دن یونیورسٹی کیفے ٹیریا میں اس نے دیکھا کہ ایک آدمی پلیٹیں
پھینک رہا ہے اور انہیں پکڑ رہا ہے۔ اس نے دیکھا کہ وہ حرکت کرتے ہی لرزتی ہیں اور
اپنی حرکت میں مساوات کا خاکہ بناتی ہیں۔ اس نے جلد ہی ایٹم کے گرد مدار میں الیکٹرانوں
کی سرگرمی کے ساتھ اس کی مماثلتیں دیکھیں۔  یہ ایک ایسی بصیرت تھی جس کی وجہ سے کوانٹم الیکٹرو
ڈائنامکس پراس کے کام نے اس کو نوبل انعام کا حقدار ٹھہرایا۔



اس سائنسی اور افسانوی شواہد سے یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان ہے کہ
تجسس اور ذہانت  کا باہم ملاپ 'جینیئس' کا فارمولا
ہے۔ لیکن یقیناً یہ بھی مکمل سچ نہیں ہے، اس پہیلی کے اور بھی بہت سے پہلو ہوں گے۔



مثال کے طور پر آپ کے جذبے کی مضبوطی، یہاں تک کہ جب آپ کو ناکامیوں
کا سامنا کرنا پڑے۔ کسی بھی جینیئس کو کسی بھی شعبے میں پہلے علم اور مہارت کی ایک
بڑی مقدارحاصل کرنی چاہیے، اس سے پہلے کہ وہ اپنی کامیابی حاصل کر سکے۔ اور یہ عام
طور پر برسوں کی مشق کے بعد ہوتا ہے۔  یونیورسٹی
آف پنسلوانیا میں سائیکالوجی کی پروفیسر انجیلا ڈک ورتھ نے تحمل پر تحقیق کا آغاز کیا
ہے اور ان کے نتائج بتاتے ہیں کہ آئی کیو اور تجسس کی طرح یہ بھی کامیابی کے حصول میں
اپنا حصہ رکھتا ہے۔



جینیئس "میٹا کوگنیٹو حکمت عملیوں" کو بھی استعمال
کرتا ہے جو ان تمام کاروائیوں کا احاطہ کرتی ہیں جنہیں ہم اپنے پروجیکٹس کی منصوبہ
بندی کرنے، اپنی پیشرفت کی نگرانی کرنے اور بہتر، زیادہ موثر حکمت عملی اپنانے کے لیے
استعمال کرتے ہیں۔  اس مفید سوچ و بچار کے بغیر
ہم اپنے آپ کوشاید اس وقت کو ضائع کرنے والا ثابت کریں جو نتیجہ خیز مشق یا ریسرچ میں
بہتر طور پر خرچ کیا جا سکتا تھا۔  یہ بات بظاہر
معمولی محسوس ہو لیکن کچھ لوگ اچھے انداز سے سوچنے کے لیے کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی
کوششوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔

اپنی صلاحیتوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے آپ کو صحیح جگہ پر، صحیح وقت پر، صحیح لوگوں کے درمیان ہونا ضروری ہے۔



آخر میں فکری عاجزی کی خوبی ہے جو ایک نظر انداز کی گئی لیکن
بنیادی خصلت ہے۔ منسی، انڈیانا میں بال اسٹیٹ یونیورسٹی میں ٹینیل پورٹر کی حالیہ تحقیق
سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی خامیوں اور حدود کو تسلیم کرنے کی صلاحیت سیکھنے کو فروغ دیتی
ہے۔  کیونکہ یہ آپ کو اپنی غلطیوں سے نمٹنے
اور اپنی سوچ کے خلا کو پر کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔  وسیع تناظر میں یہ کسی بھی شعبے میں زیادہ ترقی کے
لیے معاون ثابت ہوگا۔  ایسا لگتا ہے کہ فین
مین نے اسے پہچان لیا تھا۔  انہوں نے ایک ٹی
وی انٹرویو میں کہا کہ "میں شک، بے یقینی اور لاعلمی کے ساتھ زندگی گزار سکتا
ہوں۔  میرے خیال میں لاعلمی میں زندگی گزارنا
زیادہ دلچسپ ہے بجا
ۓ اس کے کہ آپ کے پاس جوابات ہوں اور وہ غلط ہوں"، اس نے
ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا۔



یہاں تک کہ اگر کسی کے پاس یہ تمام مثبت خصلتیں ہوں، بلاشبہ
قسمت اس بات کا تعین کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کرتی ہے کہ کون اپنے ساتھیوں سے اوپر
اٹھے گا اور کون نہیں۔ اپنی صلاحیتوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے آپ کو
صحیح جگہ پر، صحیح وقت پر، صحیح لوگوں کے درمیان ہونا ضروری ہے۔  حتی کہ زیرک اور غیرمعمولی ذہانت کے افراد بھی کامیابی
کے مواقع آسانی سے گنوا سکتے ہیں۔  اس کو سمجھنے
کے لیے کسی بڑے سائنسدان کا تصور کرنا مشکل نہیں ہے جسے کسی لیبارٹری میں جگہ کے لیے
غیر منصفانہ طور پر مسترد کر دیا گیا ہو جو اس کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے
بہترین ماحول فراہم کرسکتی تھی۔  یا ایک ایسا
فنکار جو نمایاں طور پر نمائش کے لیے تمام سماجی رابطوں سے محروم رہا ہو۔



اس میں ساختی رکاوٹوں کا تذکرہ بھی شامل ہے جو نسل، جنس، یا
جنسیت سے وابستہ ہیں۔  جو بہت سے غیرمعمولی
ذہنوں کو ان کی صلاحیت اور اس مقبولیت تک پہنچنے سے روکتی ہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔
 جیسا کہ ورجینیا وولف نے ' اے روم آف ونز اون'
میں نوٹ کیا ہے، تخلیقی کارناموں کے لیے بنیادی تقاضے مثلاً کام کرنے کے لیے وقت اور
خلوت زیادہ تر لوگوں کے لیے ہمیشہ ناپید رہی ہے۔ کامیابی میں خوش قسمتی کا کردار کامیاب
لوگوں کو اپنی عاجزی برقرار رکھنے کے لیے ایک اچھا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔



عاجز جینیئس



افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایک جینیئس کے طور پر اپنی
پہچان کو غلط انداز میں لیتے ہیں۔  وہ یہ ماننا
شروع کر دیتے ہیں کہ ان کے غیر معمولی ذہن کامیابی کی ضمانت دیتے ہیں اور یہ کہ ان
کے فیصلے غلط نہیں ہوتے۔ عاجزی کے دامن کو چھوڑنا اکثر ان کی ساکھ کو داغدار کر دیتا
ہے۔



سائنس کے مصنفین نے طویل عرصے سے "نوبل ڈیزیز" کے
وجود کو نوٹ کیا ہے - ایک اصطلاح جو کہ کچھ نوبل انعام یافتہ افراد کی بعد کی زندگی
میں غیر معقول نظریات کی تشکیل کے رجحان کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اپنے
شعبے میں پہچان کے عروج کو قبول کرنے کے لیے اسٹاک ہوم سٹی ہال کے پوڈیم پر کھڑے متعدد
سائنسدانوں نے ایڈز سے انکار، آب و ہوا سے انکار، ویکسین سے انکار، سائنسی نسل پرستی،
اور سیوڈو سائنسی علاج جیسے ہومیو پیتھی علاج کی توثیق کے لیے مضحکہ خیز جواز کا اظہار
کیا ہے۔



سقراط نے یقیناً اس بارے میں ہزاروں سال پہلے بتایا تھا۔  اپالوجی میں، افلاطون بیان کرتا ہے کہ کس طرح اس
کے استاد نے شہر کے سب سے کامیاب شاعروں، کاریگروں اور سیاست دانوں سے ملنے کے لیےایتھنز کی سڑکوں پر گھومنا شروع کیا۔ آخرکار، اس نے پہچان لیا کہ عقلمند وہ لوگ ہیں
جو اپنے علم کی حدود کو تسلیم کر سکتے ہیں۔



یہ سبق آج بھی جینیئس لوگوں کے لیے اتنا ہی مشعلِ راہ ہے جتنا
کہ 2,400 سال پہلے تھا۔  اس سے کوئی فرق نہیں
پڑتا کہ آپ کی صلاحیتیں کتنی ہی عظیم ہیں، ہمیشہ کچھ ایسا ہوگا جسے آپ نہیں جانتے۔



  





style="display:block"
data-ad-client="ca-pub-1387472932169628"
data-ad-slot="5236684156"
data-ad-format="auto"
data-full-width-responsive="true">

No comments :