بخار کی شدت اورعلاج کی
ضرورت
ڈاکٹر جِل گرائمز کا کہنا ہے، "جب آپ کا جسمانی درجہ حرارت 102 ڈگری سے کم ہو تو فوری طبی امداد کی ضرورت نہیں ہوتی"۔
![]() |
| فوٹو: ایس اے آئی ڈی سپورٹ |
جسم کا وہ درجہ حرارت جو معمول سے زیادہ ہو جاۓ بخار کہلاتا ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق، بخار آپ کے جسم کے مدافعتی نظام کا حصہ ہے جو کسی وائرس یا بیکٹیریا کو مارنے کی کوشش کرتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں انفیکشن ہوا ہوتا ہے۔
یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی شاخ میڈ لائن پلس کے مطابق بخار (پائریکسیا) تکنیکی طور پر جسم کے عام درجہ حرارت سے زیادہ ہوتا ہے۔ عام جسمانی درجہ حرارت ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتا ہے لیکن عام طور پر تقریباً 98.6 ڈگری فارن ہائیٹ یا 37 سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پچھلی دو صدیوں میں جسم کا عمومی درجہ حرارت 97.9 ڈگری فارن ہائیٹ ہوتا ہے۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن (یو ٹی آسٹن) کی اسٹوڈنٹ ہیلتھ سروسز میں بورڈ سرٹیفائید فیملی فزیشن جِل گرائم، ایم ڈی کہتی ہیں کہ بخار کی مختلف رینج اور شدت ہوتی ہے۔ کم درجے کا بخار جسم کے اس درجہ حرارت کو بیان کرتا ہے جو معمول سے ذرا زیادہ ہو لیکن اس سے اوپر نہیں، یا بخار کی حد سے بمشکل اوپر ہو۔ "لہٰذا تقریباً 99 ڈگری سے 100.9 ڈگری تک درجہ حرارت حقیقیتی بخار نہیں ہے،" وہ کہتی ہیں۔
ڈاکٹر گرائمز کہتی ہیں، "عام طور پر جب معالجین یہ سنتے ہیں کہ آپ کا پیمائش کردہ درجہ حرارت 101 سے اوپر ہے تو اس کو قابلِ توجہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ کسی انفیکشن کی علامت ہو سکتا ہے۔" امریکن اکیڈمی آف فیملی فزیشنز (اے اے ایف پی) کا مزید کہنا ہے کہ 103 ڈگری یا اس سے زیادہ درجہ حرارت کو تیز بخار سمجھا جاتا ہے اور یہ ممکنہ طور پر کسی خطرناک انفیکشن کی علامت ہو سکتا ہے جس کے لیے جلد از جلد طبی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
دوسری طرف بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز درجہ حرارت معلوم کرنے کے لیے چند اقدامات تجویز کرتے ہیں۔
ا) کھانے، پینے یا ورزش کرنے کے بعد 30 منٹ انتظار کریں۔
ب) ایسیٹامنفین، آئبوپروفین یا اسپرین لینے کے بعد کم از کم چھ گھنٹے انتظار کریں۔
پ) اسکرین کے قریب بٹن دبا کر تھرمامیٹر کو آن کریں۔
ت) تھرمامیٹر کی نوک کو اپنی زبان کے نیچے اس وقت تک پکڑیں جب تک کہ وہ بیپ نہ دے۔
ٹ) جب تھرمامیٹر بیپ دے تو اسکرین پر اپنا درجہ حرارت پڑھیں: اگر آپ کا درجہ حرارت 100.4 ڈگری فارن ہائیٹ یا 38 سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہے، تو آپ کو بخار ہے۔
ڈاکٹر گرائمز کہتی ہیں، "بالغوں میں عام طور پر، بذات خود بخار فوری طبی امداد کا سبب نہیں بنتا جب تک کہ ایک یا دو دن سے زیادہ برقرار نہ رہے یا 103 سے زیادہ نہ ہو"۔
میو کلینک کے مطابق، 102 ڈگری تک بخار زدہ بالغ افراد کو آرام کرنا چاہیے اور کافی مقدار میں سیال پینا چاہیے۔ اگرچہ کم درجے کے بخار کے لیے دوا کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ شدید سر درد، گردن میں اکڑن یا سانس لینے میں دشواری ہو تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کی ضرورت ہے۔ بخار کو کم کرنے کے لیے 102 ڈگری سے اوپر کے بخار میں ایسیٹامنفین، آئبوپروفین یا اسپرین کا استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس سے آفاقہ نہ ہو یا بخار کی شدت 103 ڈگری سے زیادہ ہو تو طبی امداد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
بخار کی وجوحات کو جاننے کے لیے اضافی علامات شامل کی جا سکتی ہیں۔
پسینہ آ رہا ہے
ٹھنڈک اور کپکپاہٹ
سر درد
پٹھوں میں درد
بھوک میں کمی
چڑچڑاپن
پانی کی کمی
عام کمزوری
بخار کو کم کرنے سے بیمار شخص کو بہتر محسوس کرنے اور آرام کرنے میں مدد ملتی ہے۔ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق، آپ ان طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے بخار کو کم کر سکتے ہیں:
انہیں نیم گرم پانی سے غسل دیں۔
ان کے ماتھے پر ایک بھیگا ہوا، ٹھنڈا کپڑا رکھیں۔
ان کے بازوؤں اور جسم کو ٹھنڈے کپڑے سے دھوئیں۔
تیز بخار کے علاج کے لیے گھر میں موجود ادویات سے متعلق اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں کہ آپ کے لیے یا آپ کے خاندان کے کسی فرد کے لیے کون سی بہتر ہے۔ کیونکہ ایک ڈاکڑ ہی مریض کی عمر، وزن، اور صحت کی دیگر حالتوں کی تاریخ کی بنیاد پر صحیح خوراک کا تعین کر سکتا ہے۔ غیر موزوں دوائیں لینے سے مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اینٹی پائریٹک دوائیں دینے یا لینے سے پہلے ان کے پروڈکٹ لیبل پر تنبیہ اور احتیاطی تدابیر کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے وقت نکالیں۔ خطرناک ضمنی اثرات کو روکنے کے لیے روزانہ کی خوراک اور حد سے ہرگز تجاوز نہ کریں۔
مثال کے طور پر، آئبوپروفین ہارٹ اٹیک یا فالج، السر یا معدے یا آنتوں میں خون بہنے کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔ بہت زیادہ ایسیٹامنفین لینا جگر کو شدید نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ مہلک بھی ہو سکتا ہے۔
خبروں میں ایک تنازعہ تھا کہ آیا آئبوپروفین کورونا وائرس کو مزید بگاڑنےکا سبب بنتی ہے یا کہ اس کے بجائے ایسیٹامنفین لینی چاہیے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) اور امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے آئبوپروفین کے استعمال کے خلاف سفارش نہیں کی کیونکہ اس کو مسترد کرنے کے لئے کافی ثبوت نہیں پاۓ گۓ۔
Q: Could #ibuprofen worsen disease for people with #COVID19?
— World Health Organization (WHO) (@WHO) March 18, 2020
A: Based on currently available information, WHO does not recommend against the use of of ibuprofen. pic.twitter.com/n39DFt2amF
اگر ہم خصوصی طور پر کووڈ-19 پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، تو صرف آپ کا درجہ حرارت یہ نہیں بتائے گا کہ آیا آپ کو انفیکشن ہے۔ لیکن اگر آپ میں دیگر عام علامات ہیں جیسے خشک کھانسی، تھکاوٹ اور ہاضمے کے مسائل یا شدید علامات جیسے سانس لینے میں دشواری، تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا آپ کو کورونا وائرس ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ اگر آپ کسی ممکنہ کورونا وائرس کی تشخیص کے بارے میں فکر مند ہیں، تو آپ کو فوری طور پر خود کو الگ تھلگ کرنا شروع کر دینا چاہیے۔
سدِ باب
آپ متعدی بیماریوں سے متعلق احتیاطی تدابیر کو اپنا کر بخار کو روکنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں میو کلینک کچھ تجاویز پیش کرتا ہے جو فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
ا) اپنے ہاتھ بار بار دھوئیں اور اپنے بچوں کو بھی ایسا کرنا سکھائیں۔ خاص طور پر کھانے سے پہلے، بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد، بھیڑ میں یا کسی بیمار کے ارد گرد وقت گزارنے کے بعد ، جانوروں کی دیکھ بھال کے بعد اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے بعد۔
ب) اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھونے کا طریقہ سکھائیں، ہر ہاتھ کے اگلے اور پچھلے حصے کو صابن سے دھوئیں اور بہتے ہوئے پانی کے نیچے پوری طرح سے کلی کریں۔
پ) جب آپ کو صابن اور پانی تک رسائی نہ ہو تو ہینڈ سینیٹائزر اپنے ساتھ رکھیں۔
ت) اپنی ناک، منہ یا آنکھوں کو چھونے سے گریز کریں، کیونکہ ایسا کرنے سے وائرس اور بیکٹیریا آپ کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں اور انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔
ٹ) کھانستے وقت منہ ڈھانپیں اور چھینکتے وقت ناک کو ڈھانپیں اور اپنے بچوں کو بھی ایسا ہی کرنا سکھائیں۔ جب بھی ممکن ہو، کھانستے یا چھینکتے وقت دوسروں سے منہ موڑ لیں تاکہ ان کو جراثیم متاثر نہ کر پائیں۔
ث) اپنے بچوں کے ساتھ کپ، پانی کی بوتلیں اور دوسرے برتن بانٹنے سے گریز کریں۔
حوالہ جات
میڈ لائن پلس۔ "بخار"، 27 اگست 2020 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
فیملی ڈاکٹر۔ "بخار"، 27 اگست 2020 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
سی ڈی سی۔ "ڈیفینیشن آف سائینز، سمپٹمز اینڈ کنڈیشنز آف تھری ٹریولرز"۔ 27 اگست 2020 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
میو کلینک۔ "بخار: علامات اور وجوہات۔" 27 اگست 2020 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
سی ڈی سی۔ "فلو: گھر میں کسی بیمار کی دیکھ بھال کرنا۔" 27 اگست 2020 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔


No comments :