کیا مہربانی ایک ایسا خاصا ہے جو کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ہو؟

کیا مہربانی ایک ایسا خاصا ہے جو کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ہو؟

 کیا مہربانی ایک ایسا خاصا ہے جو کامیابی کی راہ
میں رکاوٹ ہو؟

کہا جاتا ہے کہ اچھے لوگ اُس خوبی سے محروم ہوتے
ہیں جو کامیاب ہونے کے لیے درکار ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟

A mother is carrying her daughter
امیج کریڈٹ: ماؤنٹین لیک پی بی ایس

ہم شاید سب اس بات پر متفق
ہوں کہ مہربان ہونا  اچھی بات ہے، لیکن کیا اس سے کامیابی کا حصول ممکن ہے؟ کیونکہ دوسرے
لوگوں کے مفادات کو ترجیح دینا بھی تو مہربانی ہے۔ کیا اس کے لیے ایثار و قربانی کی
ضرورت نہیں؟

آئیے کچھ مشہور شخصیات کے متعلق
غور کریں۔  قائدِاعظم محمد علی جناح، قانون
دان، بانی اور گورنرجنرل آف پاکستان؛  مہاتیر
محمد، ملائشیا کے سیاستان، ڈاکٹر، مصنف اور وزیراعظم؛   ڈاکٹرعبدالقدیرخان،
مایہ ناز سائنسدان اور آئٹم بم کے خالق؛  علامہ
محمد الیاس عطار، ایک عالمی اصلاحی تحریک کے بانی اور قائد؛  اور شاہد رفیق خان ایک پاکستانی نژاد امریکی ارب
پتی تاجر، اسپورٹس ٹائیکون اور امریکی آٹوموٹو کمپنی 'فلیکس این گیٹ' کے مالک۔ ان تمام
لوگوں نے شہرت اور کامیابی کی طرف سفر ایک عام آدمی کی حیثیت سے کیا اور اپنے اپنے
شعبے میں واضح طور پر کامیاب رہے۔ یہ اور ان جیسے کئی لوگوں نے کامیابی کے سفر میں
کئی مقامات پر کامیابی اور ناکامی کا سامنا کیا ہوگا۔  کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کامیابی کے لیے اپنی
حکمت عملی میں مہربانی کو مرکزی اہمیت نہیں دی ہوگی؟

انہوں نے جو سیکھا وہ یہ ہے
کہ کاروبار، سیاست، ریاست اور مذہبی تحریک کو سنبھالنے کے لیے زیادہ ہمدرد اور بظاہر
"نرم" انداز اختیار کرنے سے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ نہ صرف ان لوگوں
کے فائدے کے لیے جو ان کے لیے کام کرتے ہیں، بلکہ اپنے فائدے کے لیے بھی۔ اس روایتی
تصور کہ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو مضبوط، محرک اور نمبر ایک پر توجہ مرکوز
کرنی ہوگی، کو غلط مفہوم میں لیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے روزافزوں سائنسی
ثبوت موجود ہیں کہ مہربان لوگ بھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ برطانوی مصنف کلاڈیا ہیمنڈ اپنے
ایک کالم میں لکھتی ہیں کہ 2020 میں وہ سسیکس یونیورسٹی کی ایک ٹیم کا حصہ تھیں جس
نے مہربانی کے بارے میں عوامی رویوں پر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا مطالعہ کیا۔ 144 ممالک
کے 60,000 سے زیادہ لوگوں نے ایک وسیع سوالنامہ پُر کرنے کا انتخاب کیا جس کا نام
'دی کائنڈنیس ٹیسٹ' تھا۔ جسے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام 'آل ان دی مائنڈ' اور بی
بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام 'ہیلتھ چیک' سے انہوں نے خود نشر کیا تھا۔

جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ انہوں
نے احسان یا مہربانی کے سب سے زیادہ مظاہرے کہاں ہوتے دیکھے تو جواب میں گھر اور میڈیکل
سینٹرز کے بعد کام کی جگہ ایسا مقام قرار پائی جہاں لوگوں نے حسن سلوک کا زیادہ مشاہدہ
کیا اور جہاں احسان کی واقعی قدر کی گئی۔ لہٰذا ایسی جگہ جس کی پہچان بےحسی یا خودغرضی
جیسی خصوصیات کے ساتھ منسوب ہو، جہاں لوگ عہدے حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کے
لیے تیار ہوں، سوچ سے کہیں زیادہ ہمدردی اور توجہ دینے کا مقام ہے۔

کلاڈیا ہیمنڈ لکھتی ہیں کہ
یہ ایک خود انتخابی مطالعہ تھا، اور پہلی نظر میں، برطانیہ میں کام کرنے والے 1500
افراد پر مشتمل ایک برانڈنگ کنسلٹنسی کے ذریعے کیے گئے اس سروے کے نتائج حوصلہ افزا
نہیں تھے۔  ہرتین میں سے صرف ایک جواب دہندگان
نے اپنے باس کے مہربان ہونے پر اتفاق کیا تھا جبکہ ایک چوتھائی نے اپنے باس کو بے رحم قراردیا۔








لیکن اگر نتائج کا قدرے بغور
جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جواب دہندگان جن کے سیٹھ مہربان تھے ان کا مزید یہ کہنا
تھا کہ اس مہربانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ کم از کم ایک سال تک اپنی کمپنی میں
رہیں گے اور ان کی ٹیم نے شاندار کام کا مظاہرہ کیا تھا اور یہ کہ ان کی کمپنی مالی
طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔  دریں اثنا، سروے میں حصہ لینے والے ملازمین میں سے
96 فیصد نے کہا کہ کام پر مہربانی کا مظاہرہ بہت اہم ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ اگر
کوئی تنظیم کامیاب ہونا چاہتی ہے تو کام کی جگہ پر مہربانی بہت اہمیت رکھتی ہے۔

اس خیال کی تائید امریکہ میں
مقیم ایک ماہر نفسیات جو فوک مین کی تحقیق سے ہوتی ہے ۔  اس نے 50,000 سے زیادہ لیڈروں کی 360 ڈگری فیڈ بیک
ریٹنگز کے مطالعے سے اخذ کیا کہ عملے کی طرف جن لیڈرز کو زیادہ پسندیدگی کی نظر سے
دیکھا جاتا ہے ان کا حکم عملے پر زیادہ اثر رکھتا ہے۔ واضح طور پرکہا جا سکتا ہے کہ
کم پسندیدہ باس کا بااثر ہونا اتنا نایاب تھا کہ 2000 میں سے کسی ایک واقعے کے ہونے
کا گمان کیا جا سکتا تھا۔  فوک مین کا ماننا
تھا کہ پسندیدہ مالک والے کاروبار نے منافع اور کسٹمر کے اطمینان کے ضمن میں مثبت نتائج
میں زیادہ اسکور کیا۔

مثبت رویہ کام کی جگہ پر آہستہ
آہستہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

کاروباری تحقیق کے نتیجے میں
یہ بات واضح ہے کہ مہربان قیادت کو اکثر "اخلاقی" قیادت کہا جاتا ہے۔  لیکن آپ اسے جو بھی نام دیں مشاہدے سے پتہ چلتا ہے
کہ اس کے نتیجے میں کام پر زیادہ مثبت ماحول پیدا ہوسکتا ہے اور ملازمین بھی بہتر کارکردگی
کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

مثبت رویہ کام کے ہر پہلو میں
سرایت کرسکتا ہے، جیسا کہ اٹلی کی یونیورسٹی آف پڈووا سے تعلق رکھنے والے تنظیمی ماہر
نفسیات مائیکل اینجیلو ویانیلو کی ایک تحقیق میں دیکھا گیا ہے۔

وہ پڈوا کے قریب ایک سرکاری
ہسپتال گئے اور نرسوں سے ان کے مینیجرز کے بارے میں اعتماد کے ساتھ سوالات پوچھے کہ
وہ کس حد تک منصفانہ رویہ رکھتے ہیں، کس قدر ایثارپسند اور اپنی ٹیم کا خیال رکھنے
والے ہیں۔  جہاں تک سچ ہے، نرسیں کسی اور کے
لیے کچھ اچھا کرنے، اپنے باس کی طرح بننے یا ایک بہتر انسا ن بننے کی خواہش کی رکھتی تھیں۔

سیاست میں بھی اس بات کا ثبوت
موجود ہے کہ نرم یا مہربان انداز آپ کو سرفہرست بنا سکتا ہے۔

یہ بات ثابت شدہ ہے کہ کسی
کی طرف سے مہربانی اور تعاون کی چھوٹی سی کوشش بھی کام کی جگہ پر مثبت اثر ڈال سکتی
ہے۔  نفسیات کے اندر ایک ایسا عمل ہے جسے
"تنظیمی شہریت کا برتاؤ" کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال پرنٹر کو ٹھیک کرانا
ہو سکتا ہے، بجائے اس کے کہ اسے کسی دوسرے کے لیے خراب صورت میں چھوڑ دیا جا
ۓ۔  اس کے علاوہ دفتر میں پودوں کو پانی بھی دیا جا سکتا
ہے۔ یہ کام ملازمت کے حصے کے طور پر شاید مطلوب نہ ہوں لیکن اگر ہم ان کو انجام دیتے
ہیں تو کام کا ماحول ہرایک کے لیے تھوڑا بہتر ہوسکتا ہے۔

زندگی میں ایک ایسا میدانِ
عمل ہے جہاں آپ کو لگتا ہے کہ مہربان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں، اور وہ ہے سیاست کی
خودغرض دنیا۔  لیکن سیاست میں بھی اس بات کا
ثبوت موجود ہے کہ نرم یا مہربان انداز آپ کو سرفہرست بنا سکتا ہے۔

اکیڈمک جیریمی فرائمر نے
1996 اور 2015 کے درمیان امریکی کانگریس کے اراکین کی جانب سے فلور ڈیبیٹس کے دوران
استعمال کی جانے والی زبان کا تجزیہ کیا۔ اپنے مطالعے میں اس نے ظاہر کیا کہ کانگریس
مین اور کانگریس ویمن کی منظوری کا درجہ اس وقت نیچے چلا جاتا ہے جب وہ ایوان میں اپنی
تقریروں میں غیر مہذب ہو جاتے ہیں۔ اور اگر وہ شائستہ اور فراخ دل ہوں تو قبولیت کا
گراف اوپر کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

ابھی حال ہی میں فرائمر کی
ٹیم نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹس پر ردعمل کا تجزیہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ ان کے بہت کم
حامیوں نے ان کی گھٹیا ٹویٹس کو فعال طور پر پسند کیا۔

یقیناً ایسے لوگوں کی بہت سی
مثالیں موجود ہیں جو خودغرض اور دوسروں کے لیے نرم گوشہ نہ رکھنے کے باوجود زندگی میں
اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن بات یہ ہے کہ اس کے باوجود جو چیز ہم تسلسل
کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ آپ کو کاروبار یا زندگی کے دیگر انتہائی محنت طلب
شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے سخت گیر اور ناگوار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔



یقیناً آپ صرف مہربانی کی
خوبی کے ساتھ فاتح نہیں ہو سکتے بلکہ کامیابی اور فتح کے لیے آپ کو حوصلہ، لگن اور
مہارت کی بھی ضرورت ہے۔  لیکن اس بات کے زیادہ
سے زیادہ ثبوت موجود ہیں کہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کے دوران کچھ مہربانی کا
مظاہرہ کرنا کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔





No comments :