سفاک قاتل 'دی سرپنٹ' کے لیے نیپال کی جیل سے رہائی کا حکم
اپنے سفاک جرائم کی سزا سے بچنے کے لیے وہ مختلف بھیس بدلنے کا ماہر تھا، جس کی وجہ سے
'سانپ' کے نام سے مشہور ہو گیا۔
دو شمالی امریکی سیاحوں کے قتل کے الزام میں 2003 سے کھٹمنڈو |
نیپال کی اعلیٰ ترین عدالت نے بدھ کے روز چارلس سوبھراج کی |
انیس صد پچھتر میں کھٹمنڈو میں دو شمالی امریکی سیاحوں کے قتل
کے الزام میں 19 سال جیل میں گزارنے کے بعد چارلس سوبھراج کو 15 دنوں کے اندر فرانس
ڈی پورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس کا زیادہ تر شکار انڈیا اور تھائی لینڈ میں سیاحت کی غرض
سے آنے والے مغربی نوجوان تھے۔
بدنام زمانہ قاتل نیپال کے دارالحکومت میں ایک امریکی خاتون
کونی جو برونزیچ اور اس کے کینیڈین بیک پیکر دوست لارینٹ کیریری کے قتل کے جرم میں
20 سال کی دہری سزا کاٹ رہا تھا۔
نیپال کی سپریم کورٹ نے بدھ کے روز سوبھراج کی رہائی کا حکم
دیا جب ان کی قانونی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ ایک درخواست دائر کی جس میں دعویٰ کیا
گیا تھا کہ ان کی 78 سالہ عمر اور اچھے رویے کی وجہ سے انہیں قید کی سزا میں رعایت
دی جانی چاہیے۔
نیپالی قانون میں ایک شق ان قیدیوں کی رہائی کی اجازت دیتی ہے
جنہوں نے اچھے کردار کا مظاہرہ کیا ہو اور اپنی قید کی 75 فیصد مدت پوری کی ہو۔
اے ایف پی کے مطابق فیصلے میں کہا گیا کہ "اسے جیل میں
مزید پابند رکھنا ایک قیدی کے انسانی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتا، اور اس کی رہائی میں
دل کی بیماری کے باقاعدہ علاج کو ایک اہم عوامل قرار دیا گیا ہے"۔
سوبھراج 1972 سے 1982 کے درمیان افغانستان، ہندوستان، تھائی
لینڈ، ترکی، نیپال، ایران اور ہانگ کانگ میں 20 سے زیادہ افراد کا قاتل تھا جنہیں نشہ
آور اشیاء کھلا کر، گلا گھونٹ کر، مار پیٹ کے ذریعے تشدد کر کے یا جلا کر مار دیا گیا
تھا۔
تھائی لینڈ نے 1970 کی دہائی کے وسط میں پٹایا کے ایک ساحل پر
چھ خواتین جو بِکِنی پہنے ہوئے تھیں کو منشیات پلانے اور قتل کرنے کے الزام میں
"بِکِنی قاتل" کے نام سے مشہور چارلس سوبھراج کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری
کیا۔
اپنے سفاک جرائم کی سزا سے بچنے کے لیے وہ مختلف بھیس بدلنے کا ماہر تھا، جس کی وجہ سے
'سانپ' کے نام سے مشہور ہو گیا۔ بی بی سی اور نیٹ فلِکس نے اس کی زندگی پر مبنی ایک
کامیاب سیریز نشر کی جس کا عنوان "دی سرپنٹ" یعنی سانپ رکھا گیا۔
طاہر رحیم بطور چارلس سوبھراج۔ بی بی سی کی ہٹ سیریز 'دی سرپنٹ' کو 31 ملین سے زیادہ
برطانوی شائقین نے دیکھا۔ تصویر: بی بی سی
سب سے پہلے اسے 1976 میں بھارت میں گرفتار کیا گیا جہاں اس نے
21 سال جیل میں گزارے۔ اس دوران وہ 1986 میں جیل سے فرار ہو گیا لیکن جلد ہی بھارتی
ساحلی ریاست گووا میں دوبارہ پکڑا گیا۔
سوبھراج نے چوری کے شبہ میں نئی دہلی کی سب سے زیادہ محفوظ تہاڑ
جیل میں دو دہائیاں گزاریں، لیکن کوئی ثبوت نہ ملنے کے سبب اسے 1997 میں رہا کر کے
فرانس بھیج دیا گیا۔
رہائی کے بعد وہ پیرس چلا گیا لیکن 2003 میں نیپال میں دوبارہ
منظر عام پر آیا، جہاں اسے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے ایک جواء خانے میں دیکھا
گیا۔ وہیں سے اسے امریکی سیاح کونی جو برونزچ کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
وہاں کی ایک عدالت نے اگلے سال اسے عمر قید کی سزا سنائی۔ ایک
دہائی کے بعد وہ برونزیچ کے کینیڈین ساتھی کو قتل کرنے کا مجرم بھی پایا گیا۔
سوبھراج نے قید کے دوران 2008 میں جیل میں نیہیتا بسواس سے شادی
کی، جو اس سے چوالیس سال چھوٹی اور اس کے نیپالی وکیل کی بیٹی ہے۔

No comments :