روڈ ٹیکسی کو چھوڑیں اب ہوائی ٹیکسی سے سفر کریں
ورٹیکل ایروسپیس 2023 میں اپنے ای وی ٹول کی آزمائشی پروازوں کو بڑھا دے گی۔ ورٹیکل ایروسپیس |
جتنی تیزی سے سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کرتے جا رہے ہیں چیزوں
کی ماہیت، شکل، لوگوں کے رویوں اور خدمات کے انداز میں اسی تیزی سے تبدیلی رونما ہوتی جا رہی ہے۔
ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر میں سفر کرنے کی شاید ہی کوئی خواہش
نہ رکھتا ہو۔ ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ آپ ایک جہاز میں سوار ہوں جو ہیلی کاپٹر کی
طرح اڑے اور لینڈ کرے لیکن نہ تو اس کا کوئی شور ہو، نہ بہت زیادہ خرچہ اور نہ ہی اس
سے کوئی دھواں یا آلودگی خارج ہو، کیسا؟
جی ہاں، بس کچھ ہی وقت کا انتظار۔ پھر میسر ہوگی بالکل ایسی
ہی سواری جسے ماہرین کررہے ہیں ای وی ٹول (الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ وہیکل) کے نام سے تیار۔
ابتدائی طور پر نسبتاً چھوٹے سفر اور چند افراد کے بیٹھنے کی
گنجائش کے ساتھ ان الیکٹرک جہازوں کو بنانے والی فرمز کا ماننا ہے کہ عنقریب عوام میں ان سواریوں
کی مانگ ہو گی۔
ان کا استدلال ہے کہ ای وی ٹی او ایل ہوائی جہاز پرواز کی لاگت
کو کم کریں گے کیونکہ ان کی برقی موٹریں ہیلی کاپٹر کے انجنوں کے مقابلے میں چلانے
اور دیکھ بھال میں سستی ہیں۔
برسٹل میں قائم 'ورٹیکل ایروسپیس' ایک ایسی فرم ہے جو اس نئی
صنعت میں ایک نام پیدا کرنے کی امید رکھتی ہے۔
ورٹیکل ایروسپیس کی طرف سے تصور کردہ سٹی سروس کا ایک نمونہ۔ ورٹیکل ایروسپیس |
اس کے وی ایکس فور نامی جہاز نے پچھلے سال کے شروع میں پہلی
بار ٹیک آف کیا۔ پہلی بار پرواز کے لیے اسے زمین سے باندھ دیا گیا تھا۔ اس طرح یہ صرف
دس منٹ تک ہوا میں منڈلاتا رہا۔
لیکن اصل پیش رفت تو اس سال آزمائشی پروازوں کی ایک سلسلے کے
ساتھ ہوگی۔ یہ ہوائی جہاز عمودی ٹیک آف کی بجائے آگے کی طرف، زیادہ اونچائیوں اور تیز
رفتاری سے پرواز کرے گا۔ جی ہاں، اسی دہائی کے وسط میں ہو گی وی ایکس فور کی مسافروں
کے ساتھ اونچی پرواز۔
جرمنی میں قائم والوکاپٹر اگلے سال اپنے والوسٹی ماڈل کے پبلک
فلائٹ ٹیسٹ کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسے امید ہے کہ 2024 میں طیارے کی اڑان کی منظوری کا سرٹیفیکیٹ مل جائے گا اور پھر
سنگاپور، پیرس اور روم میں پروازیں شروع کر دی جائیں گی۔
![]() |
لیلیئم الیکٹرک جیٹ انجن استعمال کرتا ہے جو عمودی اور افقی زور کے درمیان جھک سکتا ہے۔ لیلیئم |
اگلے ہی سال لِیلیئم اپنے ای وی ٹول کا پہلا پروڈکشن ورژن بنانے
کا ارادہ رکھتی ہے۔ جرمنی میں قائم لیلیئم 2017 سے اب تک پانچ پروٹوٹائپ طیاروں کا
تجربہ کر چکی ہے۔
لیلیئم جیٹ میں 6 مسافروں کی نشستوں کا منظر - لیلیئم |
ورٹیکل ایروسپیس اور وولوکاپٹر کی طرح روٹرز کو استعمال کرنے
کے بجائے لیلیئم 30 الیکٹرک جیٹس کا استعمال کرتی ہے جوعموداً اور آگے طرف پرواز کے
درمیان جھولنے کے لیے ہم آہنگی سے جھک سکتے ہیں۔
ان تمام منصوبوں کے لیے بڑی رکاوٹ ایوی ایشن ریگولیٹرز سے سرٹیفیکیشن
حاصل کرنا ہے جو ایک مشکل اور مہنگا عمل ہے جس میں برسوں لگ سکتے ہیں۔


No comments :