اس سکول میں پڑھنے والی ہر لڑکی ایک نوعمر ماں ہے

اس سکول میں پڑھنے والی ہر لڑکی ایک نوعمر ماں ہے

 اس سکول میں پڑھنے والی ہر لڑکی ایک نوعمر ماں ہے

ہیلن، لنکن پارک ہائی اسکول میں نوعمر حاملہ
امیج: بی بی سی نیوز
 








براؤنسویل، ٹیکساس جو کہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر واقع
ایک قصبہ ہے، میں واقع ایک اسکول نوعمر ماؤں کے لیے خصوصی تعلیمی خدمات پیش کرنے
والے چند اسکولوں میں سے ایک ہے۔




لِنکن پارک کسی دوسرے امریکی ہائی اسکول کی طرح لگتا ہے - ریتیلی
اینٹ، سامنے کھڑی  سکول بسیں اور ہوا میں لہراتا امریکی پرچم۔

لیکن جیسے ہی آپ اسکول میں داخل ہوتے ہیں، آپ کو طالبات کی آوازیں
اور بچوں کے رونے کی آوازیں آتی ہیں۔

اس کی دیواروں پر کالج میں حاضری کی ترغیب دینے والے پوسٹرز
کے ساتھ ساتھ حمل کی خدمات اور والدین کی کلاسوں کو فروغ دینے والے پوسٹر چسپاں کیے
گئے ہیں۔ اور مرکزی عمارت کے ساتھ ہی ایک ڈے کیئر سنٹر بھی ہے۔

حالیہ تحقیق کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران امریکہ میں
کم عمر خواتین کی شرح پیدائش میں کمی آئی ہے، لیکن نوجوان ہسپانوی خواتین میں باقی
آبادی کے مقابلے میں حمل کی شرح بہت زیادہ ہے۔







ٹیکساس ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ ہیلتھ سروسز کے مطابق اگرچہ ٹیکساس
میں نوجوان لڑکیوں کی شرح پیدائش میں مجموعی طور پر کمی دیکھی گئی ہے لیکن اس خطے کی
تشکیل کرنے والی کاؤنٹیز میں ایسا نہیں ہوا ہے، جو کہ 2005 سے ہر سال کم از کم ایک
بچے کو جنم دے رہی ہیں۔

لاطینیوں میں کسی بھی گروپ کے مقابلے میں کم عمر خواتین میں
حمل کی شرح سب سے زیادہ ہے، اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے اِسقاطِ
حمل کے لیے وفاقی تحفظات کو ختم کرنے کے 2022 کے فیصلے کے بعد یہ تعداد بڑھنے کا امکان
ہے۔

شہر کی 94 فیصد ہسپانوی آبادی نوعمر خواتین میں حمل کی زیادہ
شرح کی عکاسی کرتی ہے۔ لنکن پارک ہائی سکول کی طالبات کی عمریں 14 سے 19 سال کے درمیان
ہیں۔ زیادہ تر کم آمدنی رکھتی ہیں، اور کچھ امریکی نژاد میکسیکی شہری ہیں جو میٹاموروس
اور ٹاماؤلیپاس سے روزانہ امریکہ میں کلاسوں میں شرکت کے لیے سرحد عبور کرتی ہیں۔

لنکن پارک ہائی سکول میں لنچ کے دوران ہنستی ہوئی طالبات
پرنسپل سنتھیا کارڈینس لنکن پارک
ہائی سکول میں دوپہر کے کھانے کے دوران چٹنی کے استعمال کے بارے میں طالبات کے ساتھ
مذاق کر رہی ہیں۔ تصویر: دی ٹیکساس ٹریبیون کے لیے ویرونیکا جی کارڈیناس کی طرف سے

بہت سے عوامل ہیں جو کم عمری میں حمل کی شرح میں اضافے کا باعث
بنتے ہیں۔ لیکن کچھ ماہرین نے ریاست کے مانعِ اسقاط حمل کے سخت قوانین اور ٹیکساس کے
سکولوں میں جنسی تعلیم کی عدم فراہمی کو مورد الزام ٹھرایا ہے۔

ٹیکساس میں حاملہ نوعمر خواتین کو علاج کے حصول کے لیے صحت عامہ
کے ایک پیچیدہ نظام کو اپنانا ہوتا ہے، لیکن اگر وہ اپنے حمل کو ختم کرنے کا انتخاب
کرتی ہیں تو انہیں ملک میں اسقاط حمل کے سخت ترین قوانین کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسقاط حمل کے لیے ریاست سے باہر سفر کرنا اکثر کم آمدنی والی
خواتین کے لیے ممکن نہیں ہوتا، خاص طور پر اگر وہ نابالغ ہوں۔

یہ 2021 کا آغاز تھا جب ہیلن کو معمول سے زیادہ بھوک محسوس ہونے
لگی اور بسیارخوری کی عادت ہونے لگی تھی۔ نوجوان خاتون، جو جلد ہی 15 سال کی ہونے والی
تھی، یہ نہیں بتا سکی کہ اس کی بھوک کیوں بڑھ رہی ہے۔

"کیا یہ نارمل ہے؟" اس نے اپنی
بڑی بہن سے پوچھا۔ ہو سکتا ہے، اس کی بہن نے جواب دیا۔

لیکن ہیلن کو اطمینان نہ ہوا اور چڑچڑا پن طاری ہونے کے سبب
خاندان اور دوستوں کے ساتھ اس کی نوک جھوک معمول بن گئی تھی۔ اس کی ماہواری میں تاخیر
ہوتی گئی۔

اس کی سالگرہ پر اسے پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہے۔ "مجھے بالکل
بھی یقین نہیں آ رہا،" ہیلن نے کہا۔

اس کے دوستوں نے فوری طور پر اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی،
اس پر الزام لگایا کہ وہ اپنے حمل کو "لڑکوں کو حاصل کرنے" کے لیے استعمال
کر رہی ہے اور اس کے بچے کے والد جو اس کا ایک ہم جماعت تھا نے اس سے بات کرنا بند
کر دی۔

اس کے بعد ہیلن نے اپنی پڑھائی جاری رکھنے کے لیے لنکن پارک
ہائی سکول کا انتخاب کیا کیونکہ اس طرح وہ اپنے بچے کو اپنے ساتھ سکول لے جا سکتی تھی۔

اس کے بیگ میں کتابوں اور رسالوں کے علاوہ اس کی آٹھ ماہ کی
بیٹی جینین کے لیے ڈائپر اور کپڑے بھی رکھے ہوتے ہیں۔








سکول میں تقریباً 70 طالبات کا اندراج ہے، لیکن یہ تعداد کم
یا زیادہ ہوتی رہتی ہے کیونکہ نئی حاملہ طالبات شامل ہوتی رہتی ہیں۔ اور کچھ نوجوان
مائیں بچے کی پیدائش کے بعد اپنے سابقہ سکولوں میں واپس چلی جاتی ہیں۔

طالبات کو لے جانے والی سکول کی بسیں ان کے بچوں کے لیے مخصوس
سیٹوں سے لیس ہوتی ہیں۔ وہ صبح اپنے اور اپنے بچوں کے لیے ناشتے کا انتظام کر کے ساتھ
رکھ سکتی ہیں۔ ان کے بچے ڈے کیئر میں مفت جا سکتے ہیں۔

اگر ماں کو اپنے بچے کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت ہو تو
اسے اس مقصد کے لیے غیر حاضر رہنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک سائنس ٹیچر، کلاس
روم کے ایک کونے میں ایک بڑی الماری میں بچوں کے کپڑے بھی رکھتی ہے جہاں سے مائیں اپنے
بچوں کے لیے کپڑے حاصل کر سکتی ہیں۔

سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق،
2020 میں 15 سے 19 سال کی ہر 1,000 نوجوان خواتین میں سے 15 نے بچوں کو جنم دیا تھا۔
ڈیٹا میں 15 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شرح پیدائش شامل نہیں ہے۔

لنکن ہائی سکول ٹیکسا س
لنکن ہائی سکول ٹیکساس۔ فوٹو: بی بی سی نیوز

لبرل ٹیکساس فریڈم نیٹ ورک، مذہبی اور کمیونٹی رہنماؤں کے ایک
گروپ کے مطابق، ٹیکساس کے تقریباً 58 فیصد پبلک سکول کم عمر خواتین کو جنسی فعل سے
پرہیز کی تعلیم دیتے ہیں۔

لنکن پارک ہائی سکول کی پرنسپل سنتھیا کارڈینس نے کہا،
"جب تک ہم ان کے ساتھ معلومات شیئر نہیں کرتے، تب تک وہ ایسی تعلیم سے نابلد رہیں
گی۔" "انہیں یہ انتخاب کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا کہ وہ نتائج کا سامنا
کرنا چاہتی ہیں یا نہیں"۔

محترمہ کارڈیناس نے کہا کہ "وہ کبھی کبھار نہیں جانتیں
کہ بچے کی پرورش کیسے کی جائے"۔ "ہم بطور معلمین ان کا مستقبل اپنے ہاتھ
میں رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ صحیح طریقے سے کرنا چاہیے"۔









دوسری طرف وہ اس موسم گرما میں اسقاط حمل پر سپریم کورٹ کے فیصلے
کے بعد بدلتے سیاسی اور سماجی منظر نامے کے درمیان لنکن پارک جیسے سکولوں کی ضرورت
اور کارکرگی پر بھی غور کرتی ہیں۔

چائلڈ ٹرینڈز کے مطابق، ایک امریکی تحقیقی گروپ جو بچوں کی بہبود
پر مرکوز ہے، اس فیصلے سے نوجوانوں پر منفرد اور غیر متناسب اثرات مرتب ہونے کی توقع
ہے۔ نوعمر خواتین میں اسقاط حمل کا زیادہ امکان ہوتا ہے جس کے بعد انہیں مستقبل میں
حمل اور اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں جاننے کا موقع متا ہے۔

محترمہ کارڈیناس نے کہا کہ "میں رو بمقابلہ ویڈ کے کالعدم
ہو جانے کے مضمرات کے بارے میں سوچ رہی ہوں،" کیونکہ ہسپانوی خواتین امریکہ میں
اسقاط حمل کے خواہشمندوں کے سب سے بڑے گروہوں میں سے ایک ہیں۔ رو اور ویڈ، 410 یو ایس،
113 (1973)، امریکی سپریم کورٹ کا ایک تاریخی فیصلہ تھا جس میں ریاستہائے متحدہ کا
آئین حاملہ خاتون کے اسقاط حمل کے حق کو غیر ضروری پابندیوں کے بغیر تحفظ فراہم کرتا
تھا۔ اس فیصلے نے بہت سے امریکی وفاقی اور ریاستی اسقاط حمل کے قوانین کو ختم کر دیا
تھا۔

محترمہ کارڈیناس نے کہا کہ "میں امید کرتی ہوں کہ ہم مڈل
سکول اور ہائی سکول میں جنسی تعلیم کو فروغ دیں گے اور یہ کہ اگر اس قانون کے ختم ہونے
کے نتیجے میں ہمارے ہاں نوعمر ماؤں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو ہم اور ماہرین تعلیم
مل کر ایک لائحہ عمل تیار کریں گے جس پر عمل کیا جائے گا"۔

































































 

No comments :