وردا اسپیس انڈسٹریز نے خلاء میں ادویات
بنانے والی پہلی فیکٹری کا آغاز کر دیا ہے
یہ فیکٹری مدار میں دواسازی کے تجربے کے ذریعے ریتوناویر کے کرسٹلائزیشن کے عمل کی جانچ کرے گی، یہ ایک ایسی دوا
ہے جسے دوسرے علاج کے ساتھ ملا کر ایچ آئی وی/ ایڈز کے علاج کے لیے استعمال کیا جا
سکتا ہے۔
| کیپ کیناویرل، فلوریڈا میں ایکسیوم اسپیس مشن (ایکس-٢) ٢ کے لیے کریو ڈریگن خلائی جہاز کے ساتھ ایک اسپیس ایکس فالکن ٩ راکٹ 21 مئی 2023 کو کینیڈی اسپیس سینٹر میں پیڈ 39 اے سے روانہ ہوا۔ |
ادویات کی تیاری کے لیے خلا میں پہلی
فیکٹری 12 جون 2023 کو اسپیس ایکس کے ذریعے ایک رائیڈ شیئرنگ مشن کے حصے کے طور پر
لانچ کی گئی جس میں 72 دیگر سیٹلائٹ بھی شامل تھے۔ سپیس ایکس کے لیے یہ سال کا 40
واں فالکن مشن تھا اور آٹھواں وقف کردہ سمال سیٹ رائیڈ شیئر مشن۔ فالکن 9 راکٹ کیلی
فورنیا میں وینڈن برگ اسپیس فورس بیس سے روانہ ہوا اور مصنوعی سیاروں کو 525 کلومیٹر
سورج کے ہم آہنگ مدار میں چھوڑ دیا۔ بوسٹر لینڈنگ زون 4 پر اترا، فالکن بوسٹر کی یہ
200ویں بازیابی اور اس مخصوص بوسٹر کی نویں پرواز تھی۔
یہ فیکٹری 200 پاؤنڈ (90-کلوگرام) کا
ایک کیپسول ہے جسے وردا اسپیس انڈسٹریز کی طرف سے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو کیلیفورنیا
میں قائم ایک سٹارٹ اپ ہے جس کا مقصد خلاء میں ادویات کی مینوفیکچرنگ کو صنعتی سطح
پرفروغ دینا ہے۔ وردا اسپیس انڈسٹریز کی بنیاد 2020 میں ول بروئی، ڈیلین اسپاروہوف
اور ڈینیئل مارشل نے رکھی تھی، جس کا مقصد صنعتی استعمال کے لیے وقف پہلا خلائی
اسٹیشن بنانا تھا، جو مائیکرو گریوٹی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عمدہ اشیاء تیار کرے
جنہیں زمین کی کشش ثقل میں تیار کرنا مشکل ہے۔ وردا نے 100 ملین ڈالر سے زیادہ رقم
مختلف سرمایہ کاروں سے جن میں کھوسلا وینچرز، فاؤنڈرز فنڈ، لکس کیپیٹل، اور جنرل کیٹالسٹ
شامل ہیں بطور سِیڈ فنڈنگ اور گرانٹ حاصل کی ہے۔
یہ کیپسول' راکٹ لیب کی طرف سے تیار کردہ فوٹون خلائی جہاز سے منسلک ہے، جو مشن
کے لیے طاقت، مواصلات اور پروپلشن فراہم کرتا ہے۔ فوٹون ایک سیٹلائٹ بس ہے جو راکٹ
لیب کے کک سٹیج پر موقوف ہے، یہ زمین کے نچلے مدار سے لے کر سیاروں کے درمیان
منزلوں تک کئی مشنوں کی تکمیل میں مدد کر سکتی ہے۔ 2022 میں راکٹ لیب نے فوٹون کا
ایک اعلی توانائی والا ورژن تیار اور لانچ کیا تھا، جس نے کامیابی سے کیپ سٹون
خلائی جہاز کو ناسا کے چاند کے مدار میں تعینات کیا تھا۔ فوٹون ایس بینڈ پر
مواصلاتی رابطہ قائم کرتا ہے اور اس کی پے لوڈ کی گنجائش 170 کلوگرام (370 پونڈ)
ہے۔
یہ کیپسول مدار میں ایک دواسازی کا
تجربہ کرے گا، جس میں یہ ریتوناویر کے کرسٹلائزیشن کے عمل کی جانچ کرے گا، یہ ایک
ایسی دوا ہے جسے دوسرے علاج کے ساتھ ملا کر یچ آئی وی/ ایڈز کے علاج کے لیے
استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ریتوناویر ایک بی سی ایس کلاس ٹو کا اینٹی ریٹرو وائرل ایجنٹ
ہے جو پانی میں سست حل پذیری اور کم اورل بائیو اویلیبلٹی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان
مسائل پر قابو پانے اور ریتوناویر کی فزی کو کیمیکل اور مکینیکل خصوصیات کو بہتر
بنانے کے لیے کو کرسٹلائزیشن کا طریقہ منتخب کیا گیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی
ہے کہ بغیر وزن کے ماحول میں اگنے والے پروٹین کرسٹل زمین پر اگائے جانے والوں کے
مقابلے میں زیادہ کامل ساخت کے ساتھ پیدا ہو سکتے ہیں، جو ممکنہ طور پر بہتر
کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ادویات کا باعث بن سکتے ہیں، اورجنہیں انسانی جسم زیادہ
آسانی سے جذب کر سکتا ہے۔
یہ تجربہ مائیکرو گریویٹی ماحول سے
فائدہ اٹھائے گا، جس سے بہتر ادویات کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے جو زمین پر ممکن نہیں
ہے۔ مائیکرو گریویٹی ادویات کی تیاری کے مختلف پہلوؤں پر مثبت انداز میں اثر کر
سکتی ہے، جیسے حل پذیری، ڈفیوژن، نیوکلیشن، شرح نمو، پاکیزگی، اور پولیمورفزم۔ کئی
دہائیوں کی تحقیق نے خلا سے تیار کردہ مصنوعات کا فائدہ مند ہونا ثابت کیا ہے، اور حالیہ
سائنسی پیشرفت نے مدار تک پہنچنا آسان بنا دیا ہے۔ وردا کا مشن زمینی فوائد حاصل
کرنے کے لیے خلا کے منفرد ماحول سے فائدہ اٹھا کر بنی نوع انسان کی اقتصادی حدود
کو وسعت دینا ہے۔
تجربہ مکمل ہونے کے بعد، فوٹون خلائی
جہاز زمین پر واپس جانے کے لیے کیپسول کو ایک مدار میں رکھے گا، جہاں یہ ماچ 25 تک
کی رفتار سے ری اینٹری وہیکل کی مدد سے پیراشوٹ کا استعمال کرتے ہوئے یوٹاہ میں
اترے گا۔ ری اینٹری وہیکل ماچ 25 یا 19,000 میل فی گھنٹہ سے زیادہ کی ہائپرسونک
رفتار سے زمین پر آئے گی۔ اس کے بعد تیار کردہ مواد کا تجزیہ کیا جائے گا اور زمین
پر بنائے گئے مواد سے موازنہ کیا جائے گا۔ یوٹاہ میں لینڈنگ سائٹ ایل سیگنڈو، کیلیفورنیا
میں وردا کے ہیڈ کوارٹر کے قریب ہے۔
وردا، فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی خاطر
تجربات کی غرض سے مدار میں مصنوعی سیاروں کی باقاعدہ پروازیں بھیج کر، آخر میں ایک
گولڈن ٹکٹ کی دوا، جو خلا میں تیار ہونے پر بہتر ثابت ہوتی سکتی ہے اور
وردا کے لیے رائلٹی پیدا کر سکتی ہے، تیار کر کے اپنے کاروبار کو تیزی سے بڑھانے کی خواہش مند
ہے۔ گولڈن ٹکٹ کی دوا زمین کے مقابلے میں خلا میں بننے پر افادیت یا حفاظت
میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے، اور مارکیٹ میں ایک پریمیم قیمت حاصل کر سکتی ہے۔
وردا کا حتمی مقصد سیارہ زہرہ کے ماحول میں لیزر ٹیون ایبل ماس سپیک ٹومیٹر فراہم کر کے
2025 میں زہرہ کے لیے سیاروں کے ایک باہمی مشن کو کامیاب کرنا ہے۔
وردا کا خیال بین الاقوامی خلائی اسٹیشن
(آئی ایس ایس) پر کیے گئے سابقہ تجربات کی بنیاد پر ہے۔ یہ خلائی سٹیشن مختلف نجی
کمپنیوں اور اداروں کی تحقیق کی میزبانی کرتا ہے، لیکن یہ پہلا تجربہ ہوگا جو
انسانی مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر کام کرے گا۔ آئی ایس ایس 1998 سے مائیکرو گریوٹی
ریسرچ کا ایک پلیٹ فارم رہا ہے، اور اس نے مختلف شعبوں جیسے کہ بائیو ٹیکنالوجی، میٹریل
سائنس، فلوئڈ ڈائنامکس، کم بسشن، اور فزکس کے تجربات کی میزبانی کی ہے۔ کچھ قابل
ذکر تجربات جو آئی ایس ایس پر کیے گئے ہیں ان میں ادویات کی تیاری کے لیے پروٹین
کرسٹل کی کاشت، انسانی بافتوں کی 3-ڈی پرنٹنگ کی جانچ، اور بہتر معیار کے ساتھ آپٹیکل
فائبر تیار کرنا شامل ہیں۔ تاہم، آئی ایس ایس کی لاگت، دستیابی، رسائی اور استعمال
میں کچھ مشکلات ہیں جنہیں وردا اپنے مخصوص مصنوعی سیاروں کے ذریعے دور کرنا چاہتا
ہے۔

No comments :