فلسطینی' اسرائیل کے مغربی کنارے میں
بڑے آپریشن کے متاثرین کا سوگ منا رہے ہیں۔
آپریشن میں شمالی شہر جنین اور اس سے
ملحقہ پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔
آپریشن میں ڈرون حملے، سینکڑوں فوجی،
بکتر بند گاڑیاں، فوج کے بلڈوزر اور سنائپرز شامل تھے۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی
فوج کا یہ برسوں میں سب سے بڑا حملہ تھا۔
یہ آپریشن وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو
کی سخت گیر حکومت کی ہدایت پر شروع کیا گیا تھا اور اسرائیلی فوج نے اسے
"انسداد دہشت گردی کی وسیع کوشش" کے طور پر بیان کیا۔
اس آپریشن کے نتیجے میں اسرائیلی فوج
اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان شدید جھڑپیں اور فائرنگ کے ساتھ ساتھ فلسطینی
شہریوں کی جانب سے احتجاج اور پتھراؤ بھی ہوا۔
آپریشن کے نتیجے میں آٹھ فلسطینی ہلاک
اور 50 زخمی ہوئے، جن میں سے 10 کی حالت تشویشناک ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک
اور زخمی ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل تھے۔
جنین میں اسرائیلی آپریشن نے مختلف
لوگوں اور گروہوں کی جانب سے شدید ردعمل کو ہوا دی ہے۔
غزہ کو کنٹرول کرنے والی فلسطینی
اسلامی تحریک حماس نے اس حملے کو "وحشیانہ جارحیت" قرار دیتے ہوئے اس کی
مذمت کی ہے اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ "جنین کے
ساتھ کھڑے ہوں اور اپنے لوگوں کا دفاع کریں"۔ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے
کہا کہ "ہمارے لوگ اور ان کی مزاحمت ہر جگہ جانتی ہے کہ اس وحشیانہ جارحیت کا
کیا جواب دینا ہے"۔
فلسطینی اتھارٹی نے اس حملے کو
"ہمارے نہتے لوگوں کے خلاف ایک نیا جنگی جرم" اور "جنین کے لوگوں
کے خلاف ایک کھلی جنگ" قرار دیا ہے۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ
اسرائیل ہمیں تشدد اور افراتفری کے چکر میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران، جو اسرائیل کا علاقائی حریف
اور حماس کا حامی ہے، نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "ایک اندھا جرم اور ریاستی
دہشت گردی کا ایک نمایاں اقدام" قرار دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر
کنانی نے کہا کہ صیہونی اس بار بھی شکست سے دوچار ہو نگے۔
مصر، اردن اور عرب لیگ، جن کے اسرائیل
کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں لیکن فلسطینی کاز کی حمایت کرتے ہیں، نے اس حملے پر کڑی
تنقید کی اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ
کیا۔ انہوں نے اسرائیل پر بھی زور دیا کہ وہ تحمل سے کام لے اور شہریوں کی حفاظت
کرے۔
اقوام متحدہ، عالمی ادارہ جو کہ امن
اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے، نے تشدد میں اضافے پر تشویش کا اظہار
کیا اور پرامن رہنے اور کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری
جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ وہ "جنین میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بچوں
سمیت شہریوں کی ہلاکتوں کی خبروں سے بہت پریشان ہیں"۔
امریکہ، اسرائیل کا قریبی اتحادی اور
اسرائیل اور فلسطینیوں دونوں کے لیے ایک بڑا عطیہ دہندہ، حماس اور دیگر عسکریت
پسند گروپوں کے خلاف اپنے دفاع کے لیے اسرائیل کے حق کی حمایت کرتا ہے، لیکن ساتھ
ہی ساتھ دونوں فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ مزید شہری ہلاکتوں سے گریز کریں۔ وائٹ
ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خطرات کے خلاف اسرائیل کے اپنے
دفاع کے جائز حق کی حمایت کرتے ہیں۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی، تینوں
بااثر یورپی ممالک جن کے اسرائیل اور فلسطینیوں دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں،
نے جنین کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور فوری طور پر دشمنی کے خاتمے کا
مطالبہ کیا۔ انہوں نے تنازعہ کے دو ریاستی حل کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

No comments :