کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئےمطلوبہ فیس ماسک کا حصول چین کا مرہونِ منت
چونکہ اسپتالوں اور حکومتوں کوڈاکٹروں اور نرسوں کو کورونا وائرس وبا سے بچانے کے لئے سانس لینے اور جراحی کے ماسک کی شدت سے ضرورت ہے، لیکن اس کے حصول کے لیے انھیں ایک مشکل حقیقت کہ دنیا ان کو بنانے کے لئے چین پر منحصر ہے کا سامناہے۔
چین کورونا وائرس کے ابھرنے سے پہلے دنیا میں موجود فیس ماسک کی کل تعداد کا آدھا حصہ بنا چکا تھا اور اس کے بعد سے اس نے پیداوارکو تقریبا 12 گنا بڑھایا ہے۔ لیکن چائنہ نے ماسک فیکٹری آؤٹ پٹ کو اپنے لئے استعمال کرنے کا دعوی کیا ہے۔ اس کے علاوہ باقی دنیا سے بھی عطیات اورخریداری کی صورت میں فیس ماسک کی بہت بھاری مقدار حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
اب ماسک کی عدم فراہمی کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔ چونکہ اس وائرس کا عالمی سطح پر پھیلاؤ بڑھتا جارہا ہے، دنیا بھر کی حکومتیں فیس ماسک کی برآمد پر پابندی عائد کررہی ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں وبائی امراض کے پھیلنے میں مزید تیزی آسکتی ہے۔
اس نے چین پر دنیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے شدید دباؤ ڈالا ہے جب کہ وہ خود بھی کورونا وائرس سے نبرد آزما ہے۔ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے انفیکشن کی شرح کو قابو میں کر لیا ہے، لیکن وبائی امراض کے ماہر انتباہ کرتے ہیں کہ یہ وباء سفری حدود میں ڈھیل دینے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کام پر واپس آنے کی صورت میں دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔
مینوفیکچرنگ اینڈ ٹریڈ سے متعلق صدر ٹرمپ کے مشیر پیٹر نیارو نے گذشتہ ماہ فاکس بزنس پر یہ دعوی کیا تھا کہ چین نے امریکی کمپنیوں کی جانب سے ماسک بنانے والی فیکٹریاں اپنے زیرِاثرکر لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ نے "ہماری کمپنی 3ایم کو مؤثر طریقے سے قومی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے"۔
منیسوٹا میں مقیم ایک صنعت کار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شنگھائی میں انکی فیکٹری میں بنائے جانے والے زیادہ ترماسک وباء پھوٹنے سے پہلے ہی چین میں فروخت ہوچکےتھے۔ چین سے دوبارہ برآمدات کب شروع ہوسکتی ہیں اس پرانہوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے گریزکیا۔
ممکن ہے کہ چین اپنی پابندیوں میں آسانی پیدا کرے گا کیونکہ دنیا کی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ وسطی چین میں ڈسپوزایبل ماسک بنانے والی ایک چھوٹی سی فیکٹری کی جنرل منیجرٹن قہونگ نے کہا ہے کہ انہوں نے حکومت کے ماسک بنانے کے آرڈرز کوپورا کردیا ہے اور وہ دوبارہ برآمدات شروع کررہی ہیں۔ چینی حکومت خیر سگالی پیکیج کے طور پر بیرون ملک ماسک بھی بھیج رہی ہے۔
دوسرے مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ چینی حکومت اب بھی ان تمام ماسکوں کا دعویٰ کر رہی ہے جو ان کی فیکٹریوں نے چین میں بنائے ہیں۔ کینیڈا کی کمپنی میڈیکوم کے چیف آپریٹنگ آفیسر گیلوم لیورڈورجن کی اپنی شنگھائی فیکٹری میں ایک دن میں تین لاکھ ماسک بنتے ہیں نے کہا ہے" ماسک برآمدات کی ابھی تک اجازت نہیں ہے لیکن ہم ہر روز اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش میں لگے ہوۓ ہیں"۔
چونکہ چائنہ کاروں، اسٹیل، الیکٹرانکس اوردیگر ضروریات کی چیزیں بنانے کی صنعت پرحاوی ہے ، یہ بنیادی طور پردنیا کو حفاظتی طبی پوشاک کی فراہمی کا مرکزہے۔ یہ جو کچھ بناتا ہے وہ صحت کے پیشہ ور افراد کے ذریعے پہنے جانے والے ڈسپوز ایبل سرجیکل ماسک ہوتے ہیں۔ یہ این-95 سانس لینے والے ماسک کی ایک چھوٹی تعداد بناتا ہے جو ڈاکٹروں اور نرسوں کے لئے زیادہ فلٹریشن فراہم کرتے ہیں۔
امریکی مراکز برائے امراض کی روک تھام کے مطابق عام لوگوں کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن چین میں سرجیکل ماسک کے مطالبے نے آسمان کوچھورکھا ہے، جہاں پولیس عوام میں ماسک پہننے کی ضرورت لازمی قراردیتی ہے۔
اگرچہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ چین عملی طور پر تمام ماسک آؤٹ پٹ کو ملک کے اندر استعمال کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن چینی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے کبھی بھی ماسک کی برآمدات پر پابندی کا حکم جاری نہیں کیا اور وہ دوسرے ممالک کے ساتھ اشتراک کے لئے کام کرنے پر راضی ہے۔
چین کی وزارت تجارت میں بین الاقوامی تجارت کے نائب ڈائریکٹر لی زنگقیان نے اپنے ایک تحریری جواب میں کہا ہے "ہم اس وباء کے سلسلے میں متعلقہ ممالک کودرپیش دباؤ اور پریشانیوں کا مکمل ادراک رکھتے ہیں اور ہم بین الاقوامی تعاون کو مستحکم کرنے کے خواہشمند ہیں۔
چین نے صرف ماسک کی فروخت ہی بند نہیں کی بلکہ اس نے دنیا کی باقی سپلائی کا ذیادہ حصہ بھی خرید لیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ووہان شہرجہاں کورونا وائرس پھوٹا وہاں جنوری کے لاک ڈاؤن کے بعد پہلے ہفتے میں چین نے 56 ملین سانس لینے والے آلات اور ماسک درآمد کیے۔
تیس جنوری کوچین صرف 24 گھنٹوں میں 20 ملین سانس لینے والے آلات اور
سرجیکل ماسک درآمد کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ فروری کے دوران کاروباری افراد اور امدادی گروپوں نے متمول ممالک اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بڑے دواخانوں کا دورہ کیا اور چین کو بھیجنے کے لئے بڑے پیمانے پر ماسک خریدے۔
عالمی کمپنیوں اور خیراتی اداروں نے بھی ماسک کا عطیہ کیا۔ ہنی ویل نے 500،000 این-95 سانس لینے والے ماسک فراہم کیے اور٣ ایم نے ایک ملین کا عطیہ کیا۔ ہنی ویل نے کہا کہ اس کا عطیہ چین میں ذخیرہ کیےگۓ اسٹاک سےحاصل ہوا، جبکہ 3 ایم نے اپنے عطیات کے ذرائع بتانے سے انکار کیا ہے۔ 3 ایم نے سانس لینے میں مددگار ماسک کی دوسری کھیپ بھی عطیہ کی لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ اس میں کتنے شامل ہیں۔ برسٹل مائر اسکیب کی چیریٹی فاؤنڈیشن نے وباء کے مرکز میں ڈاکٹروں اور نرسوں کے لئے اضافی 220،000 این 95 سانس میں مددگار آلات خریدے۔
تب سے چین نے ڈسپوز ایبل سرجیکل ماسک کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے جنگی بنیادوں پرکام کیا ہے۔ چینی حکومت کے مطابق ماہ فروری کے آغاز میں روزانہ کی پیداوار 10 ملین سے بڑھ کرمہینے کے آخرتک 115 ملین ہوگئی۔
چائنہ میڈیکل فارماسیوٹیکل میٹریل ایسوسی ایشن میں میڈیکل میٹریل کمیٹی کے سکریٹری جنرل یوان فجون نے کہا ہے کہ مینوفیکچررز کو اب بھی ملکی مارکیٹ کے لئے مزید 230 ملین سرجیکل ماسک تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن پیداوار میں حالیہ اضافے کا مطلب یہ ہے کہ ان احکامات کو پورا کیا جاسکتا ہے اور برآمدات بھی ممکن ہوسکتی ہیں۔
سیکڑوں چھوٹی چھوٹی کمپنیوں نے ماسک بنانا شروع کردیا ہے۔ جنوب مغربی چین میں ایک جنرل موٹرز کے مشترکہ منصوبے نے اپنی 20 ماسک بنانے والی مشینیں لگائیں اور بڑی تعداد میں پیداوار شروع کردی ہے۔ پھر بھی این 95 سانس لینے والے ماسک کی پیداواربمشکل بڑھ کر 1.66 ملین ہوئی ہے۔ اس کے لیے ایک خاص دھاگے کی ضرورت ہوتی ہے جس کی دستیابی بہت کم ہے۔
چین کی فوری ضرورتوں میں کمی کے امکان ہیں جیسا کہ ووہان میں ایک دن میں ایک درجن سے کم نئے انفیکشن کی اطلاع مل رہی ہے۔
چینی حکومت نے امدادی پیکجوں کے طور پر دوسرے ممالک کو کچھ کھیپ بھیجنا شروع کردی ہے۔ اس نے گذشتہ ماہ ایران کو 250،000 ماسک عطیہ کیے تھے جووباء سے ذیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے اور 200،000 فلپائن کو۔ اس نے کہا کہ وہ جنوبی کوریا کواس ہفتے پچاس لاکھ ماسک بھیجے گا اور اٹلی کو ایک لاکھ سانس لینے والے اور بیس لاکھ سرجیکل ماسک برآمد کرے گا۔
بیجنگ میں وزارت تجارت میں مسٹر لی نے کہا "روک تھام اور کنٹرول کے پچھلے مرحلے میں بہت سارے ممالک نے ہماری مدد کرنے کی پیش کش کی ہے اور ہم متاثرہ ممالک کو اپنی مدد بہم پہنچانے پر بہت مطمئن ہیں"۔
.مغرب میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اعلی سفارت کاروں کی اس اعانت کے اعلان کےذریعےسیاسی اثر و رسوخ کی تلاش میں ہے۔ پنسلوینیا یونیورسٹی میں معاصرچین کے مطالعہ کے مرکز کے ڈائریکٹر جیکس ڈی لیزل نے کہا ہے "یہ یقینی طور پر اسے خارجہ پالیسی کا ایک آلہ کار بنا رہا ہے"۔
صرف چین کی حکومت ہی نے نقاب کی سپلائی محدود کرنے میں بڑا کردارادا نہیں کیا ہے۔ تائیوان، جنوبی کوریا اور ہندوستان نے نقاب کی برآمد کو روکنے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے ہیں۔
ڈاکٹروں اور نرسوں کو لاحق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے فرانسیسی حکومت نے گذشتہ ہفتے مئی کے آخر تک تمام ماسک پروڈکشن حاصل کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ صرف گھریلو استعمال کے لئے چوبیس گھنٹے این 95 ماسک اور سرجیکل ماسک تیار کرنے کے لئے فرانسیسی میڈیکل سپلائی فیکٹریوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
فرانس کے شہر لیون کے قریب درمیانے سائز کی میڈیکل سپلائی بنانے والی کمپنی ویلمی ایس اے ایس ، برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس کے دس لاکھ ماسک کے آرڈر کو پورا کرنے سے قاصر رہی کیونکہ فرانسیسی حکومت نے سپلائی کو طلب کیا۔ کمپنی کے ڈائریکٹر نکولس برلات نے کہا ، "وہ مجھے بتاتے ہیں کہ میں کیا بناؤں اور میں وہ بناتا ہوں"۔
جرمنی اور جمہوریہ چیک نے گذشتہ ہفتے چہرے کے ماسک اور دیگر حفاظتی سامان کی برآمد پر پابندی عائد کردی تھی۔ اٹلی میں جہاں حکومت نے پیر کے بعد سے تقریبا تمام آبادی کو لاک ڈاؤن پر ڈال دیا ہے، ماسک اور دیگر حفاظتی طبی سامان شاید اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہیں نکل سکتے۔
حکومتوں نے مطلوبہ پیداواری مقدارواضح نہیں کی یا یہ نہیں بتایا کہ خطرے والی آبادیوں کےتحفظ کے لئے انہیں کتنے ماسک کی ضرورت ہے۔ لیکن بیلجیم ، نیدرلینڈز ، آسٹریا اور دیگر یوروپی یونین کے ممالک کے عہدیداروں نے متنبہ کیا ہے کہ پابندیاں فراہم کنندگان کو پڑوسی ممالک تک پہنچانے سے روک رہی ہیں۔
پابندی سے "اس بحران سے نمٹنے کے لئے ہمارے اجتماعی نقطہ نظر کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے"، جینز لیناراسک ، جو یورپی یونین کے بحرانی انتظامیہ کے کمشنرہیں انہوں نے برسل میں یورپی وزراءِ صحت کے ہنگامی اجلاس میں کہا۔
جنوب مغربی شنگھائی میں ایک پانچ منزلہ عمارت سے ہونے والی فراہمی اس قلت کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بہت بڑی فیکٹری ہے جو3ایم کے لئے این95 سانس لینے والے ماسک تیار کرنے والی ایک انتہائی اہم سائٹ ہے۔ فیکٹری کی باڑ پر کھڑے ، جسے بجلی کے چھ تاروں کے ذریعے بنایا گیا تھا ، ایک کارکن جس نے صرف اپنے کنبہ کا نام ، چاؤ بتایا ، کہا کہ ماسک چین کو وائرس سے لڑنے میں مدد فراہم کررہا ہے۔ اس نے فخر کے ساتھ کہا "انہیں(ماسک) ووہون کے اسپتالوں میں بھیجا جارہا ہے"۔


No comments :