ہوسکتا ہے کہ وُضو نے برطانیہ کے مسلمانوں میں کرونا وائرس کے انفیکشن کے امکانات کم کردیئے ہوں۔ رپورٹ

ہوسکتا ہے کہ وُضو نے برطانیہ کے مسلمانوں میں کرونا وائرس کے انفیکشن کے امکانات کم کردیئے ہوں۔ رپورٹ


ہوسکتا ہے کہ وُضو نے برطانیہ کے مسلمانوں میں کرونا وائرس کے انفیکشن کے امکانات کم کردیئے ہوں






ایک بزرگ اور ایک نوجوان وضو کرتے ہوۓ





لندن: ممکنہ طور پرروزانہ پانچ نمازوں سے پہلے وضو کرنےکے عمل نےبرطانوی مسلمانوں میں ناول کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔





نیو کیسل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر رچرڈ ویبر اور لیبر پارٹی کے سابق سیاستدان ٹریور فلپس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مسلمانوں کومہلک کرونا وائرس کا کم خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ دن میں پانچ بار خود کو صاف کرتے ہیں۔





دونوں ماہرین کے مطابق غالب امکان ہے کہ دن میں پانچ بار وضو کرنے اور ہاتھ دھونے کی وجہ سے بہت سے مسلمان کووڈ 19 سے محفوظ رہے ہیں۔ خاص طور پر مسلمان خواتین کی کم ملازمت نے بھی ان علاقوں میں وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کی ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ینگ فاؤنڈیشن کے مطابق صرف ٪29 برطانوی مسلمان خواتین ملازمت کرتی ہیں۔





ملازمت کی کمی کا مطلب عوامی نقل و حرکت کا کم استعمال اورتھوڑے مقامات کی طرف سفرکرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنہائی کی طرح مسلمانوں کی بھی کچھ ثقافتی عادات وائرس سے بچاؤ کا اہم ذریعہ ہیں۔





اس رپورٹ میں پورے برطانیہ میں کورونا وائرس کے مقامات کی گہرائیوں سے روشنی ڈالی گئی ہے اور اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی کثیر تعداد والے علاقوں کو ذیادہ متاثرہ علاقوں کی فہرستوں میں شامل نہیں کیا گیا ہے ، حالانکہ سیاہ فام اور نسلی اقلیت (بی اے ایم ای) والے خطے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔





فلپس نے کہا ہے کہ بلیک برن ، بریڈفورڈ ، لوٹن ، روچڈیل اور رودرہیم کورونا وائرس کے بدترین متاثرہ مقامات کی فہرست میں "اپنی عدم موجودگی سے نمایاں ہیں" ، یہ دونوں غیر سفید اور غریب علاقے ہیں۔ ان تمام علاقوں میں مسلمانوں کی زیادہ تعداد ہے۔





تجزیہ کرتے ہوۓ فلپس نے لکھا کہ اگربیماری کی شدت کا انحصارغربت پر ہوتا تو ہم توقع کرتے کہ یہ وائرس برطانیہ کی پاکستانی اور بنگلہ دیشی مسلم کمیونٹیوں میں بہت بڑھ رہا ہے۔





انہوں نے وسطی لندن میں ٹاور ہیملیٹس کی مثال دی جو ایک تہائی سے زیادہ مسلم آبادی پر مشتمل ہے اور اس کے چاروں طرف کورونا وائرس کے مقامات ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ اس سے محفوظ رہا ہے۔





اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ کے بہت سے علاقوں میں مسلمان کم متاثر ہوئے ہیں۔ جبکہ سرکاری اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ این ایچ ایس میں زیادہ تعداد کی موجودگی اورایک ہی گھرمیں متعدد نسلوں کے رہنے کی وجہ سے بی اے ایم ای طبقے زیادہ خطرہ میں ہیں۔





فلپس کا کہنا ہے کہ اس سے اس امرکا انکشاف ہوتا ہے کہ اگر اس وائرس کی منتقلی کو روکنے کا ایک طریقہ ہاتھ دھونے کی صورت میں ہوسکتا ہے تو شاید اس عقیدہ کے بہت سے افراد جو دن میں پانچ بارنماز سے پہلے باقاعدگی سے دھوئیں وہ ہمارے لیے زندگی کے تمام شعبوں میں راہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔


No comments :