کس کا قصور ہے؟

کس کا قصور ہے؟

کس کا قصور ہے؟ 

 

مہنگائی کے بے لگام گھوڑے کو حکومت سرپٹ دوڑاۓ جا رہی ہے۔ بڑی کمپنیوں اور مختلف کاروباری تنظیموں کی طرف سے مطالبات اور قیمتیں بڑھانے کی تجاویز پر آنکھیں بند کر کے منظوری کے دستخط کیے جا رہی ہے۔ کسی چیز کی قیمت میں اچانک ہوشرُبا ملک گیر اضافے کے کم از کم ایک مہینے کے بعد ریوڑ سے بھی بڑی کابینہ ہونے کے باوجود اتفاقاً ٹی وی سے معلوم پڑنے پر وزیراعظم کی طرف سے لیے گۓ نوٹس کے احسان کی صورت میں مزید اضافہ ایک معمول بن چکا ہے۔ 


روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کے رجحان سے عوام کا ہر فرد پریشان اور مایوسیوں کا شکار نظر آتا ہے۔ حالات اتنے بے قابو ہو چکے ہیں کہ خود کشی جیسی حرام موت آسان حل نظر آنے لگا ہے۔


عوام میں موجود دوکانداروں کو بھی اگر عوام تصور کیا جاۓ تو بالکل بھی غلط نہیں ہوگا۔ اگر حکومت کچھ چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کو اپنا اولین فرضِ عین سمجھے گی اور کچھ کو نظر انداز کرے گی تو پرائس کنٹرول والا نظریہ مکمل طور پر باطل اور بے وقوفی کا شاہکار ثابت ہو گا جو کہ ہو رہا ہے۔ اگر ایک دوکاندار اپنی پیش کردہ اشیاء کی خریداری یا دیگر روزمرہ کی ذاتی استعمال کی چیزوں کی خریداری ذیادہ دام کے بدلے کرے گا تو وہ فروخت میں کیونکر قیمت نہیں بڑھاۓ گا؟


اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر کوئ عام دوکاندارایسا کرتا پکڑا جاۓ تو اس پر فورًا ہی پرائس کنٹرول کی خلاف ورزی کا فتوٰی صادر کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی افسرانِ بالا کی طرف سے اسے لمبی جیل یا ایک بڑی رقم بطور جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا کر ڈرایا جاتا ہے۔


اس صورتحال میں وہ چھوٹا موٹا دوکاندار جیل کا تو سن کر ہی اپنے حواس کھو بیٹھتا ہے کہ اس سے اُس کی فیملی کا کیا ہو گا، کہاں سے کھائیں گے، بہتر ہے کہ جرمانہ ادا کر دوں اور اپنی جان چھڑوا کر اپنے کام پر واپس جاؤں۔ لہٰذا وہ اپنے آپ کو واقعی مجرم سمجھ کر اور جرمانے کو ترجیح دے کر متعلقہ افسر اور دفتر میں موجود دیگر چھوٹے بڑے افراد کی جرمانے کی رقم میں ذیادہ سے ذیادہ کمی کرنے کے لیے منتیں اور ترلے کرنا شروع ہو جاتا ہے۔ جس سے ذیادہ تر یہی ہوتا ہے کہ متعلقہ افسر کمال مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اسے چھوٹ عطا کرتا ہے۔ اور وہ جرمانے کے طور پر کم از کم پانچ سے دس ہزار روپے سرکار کو راضی کرنے کے فرض کے طور پرادا کرکے اور مختلف نظروں کے سامنے سے شرمندہ شرمندہ اور آزادی کے تصورسے خوش خوش چلا جاتا ہے۔


کیا اس سارے عمل سے اُس دوکاندار اور باقی عوام کی زندگی میں کچھ بہتری کی امید کی جا سکتی ہے؟ کیا اس سے شہر میں موجود تمام چیزوں کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ ختم ہو جاتا ہے؟ کیا جرمانہ وصول کرنے کے بعد حکومت نےاس دوکاندار کی قیمتِ خرید میں کمی کی اس دوکاندار کو ضمانت دے دی؟ کیا اب وہ سبق سیکھ کر مہنگی خریداری کر کے باقی عوام کو سستے میں فروخت کرنا شروع کر دے گا۔ نہیں! بلکہ اس کو اسی حال میں چھوڑدیا گیا تاکہ آئندہ پکڑا جاۓ گا تو سرکاری جیب کو پھر فائدہ حاصل ہوگا۔ کچھ مہربان مشورہ فراہم کرتے ہیں کہ اگر تمہیں اس میں بچت نہیں تو تم یہ کاروبار چھوڑ دو۔ مطلب، مہنگائی ختم کرنے اور کوئی دوسرا کاروبار کرنے کا نادر اور آسان نسخہ فراہم کرتے ہیں۔ اور وہ دوکان دار اس نظام اور اس کو چلانے والوں سے بحث اس لیے ترک کردیتا ہے کہ کہیں اس کا نتیجہ اس کی سزا میں مزید اضافے کی صورت میں نہ نکل آۓ۔ چنانچہ جرمانہ ادا کرنے کے بدلے سرکار کی طرف سے عطا کردہ جرمانے کی رسید کو آزادی کا پروانہ اور سرکاری انعام سمجھ کر چل پڑتا ہے۔  اسے کہتے ہیں 'چل سو چل' اور 'مست مست دم مست قلندر'۔


قارئین کرام! گوشت ہماری خوراک میں ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ جس میں مٹن یعنی چھوٹا گوشت اپنی عمدگی، نفاست، لذت اور غذائی فوائد کی وجہ سے ذیادہ اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے گوشت کے دوسرے ذرائع کی نسبت ذیادہ قیمتی قرار دیا جاتا ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اکثر اپنی خوراک میں مٹن کو شامل کرے لیکن اگر اس کی جیب مسلسل مٹن کھانے کی اجازت نہیں دیتی تو وہ کبھی کبھار قدرت کے اس انعام سے مستفید ہو سکتا ہے۔


مزید یہ کہ اس کے لیے اتنا غمگین ہونے کی ضرورت نہیں، قدرت نے اس کے لیے گوشت کے دوسرے ذرائع بھی عطا کر رکھے ہیں جن میں بیف یعنی بڑا گوشت، چکن یعنی مرغی کا گوشت اور فش یعنی مچھلی کا گوشت شامل ہے جو عام طور پر مارکیٹ میں دستیاب ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک غریب آدمی کے لیے مٹن کھانا ضروری نہیں۔ 


ایک اچھی آمدنی کا حامل یا کم از کم متوسط آمدنی والا دوکاندار جس کی آمدنی اس کو روزمرہ کی بنیاد پر ملتی ہے اس کے لیے اپنے اخراجات میں کچھ نہ کچھ مٹن کے خرچے کو شامل کرنا مشکل کام نہیں۔


ہوسکتا ہے کہ آپ لوگ میری اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ تقریباً دو سال سے گوشت (مٹن اوربیف) کے نرخ میں سرکاری طور پر اضافہ نہیں کیا گیا۔ ورنہ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جس دن سرکار نے باقی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ اور من مانی نہ کی ہو اور عوام کے لیے وبالِ جان نہ بنی ہو۔ احباب میری اس بات کو بھی ذہین نشیں رکھیں کہ میری اس تحریر کا مقصد مطلق گوشت کے نرخ بڑھانا نہیں بلکہ مہنگائی کی چکی میں برابر کے پسنے والے اور اپنی زندگی کا پیہہ رواں دواں رکھنے کی تگ و دو کرنے والے ایک طبقے کی حالتِ زار کو بیان کرنا ہے۔


اب تھوڑی سی ہمت کر کے ضروریاتِ زندگی کی پچھلے دو سالوں کے دوران قیمتوں کے اضافے کا جائزہ لے کر موازنہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


بجلی کا بل 150-200 سے بڑھ کر 800-1000 روپے ہو گیا لیکن چھوٹے گوشت کی قیمت 800 سے نہیں بڑھی۔ لگتا ہے مٹن یا بیف فروش بجلی کا بل ادا نہیں کرتے یا پھر جانوروں کو پیسوں سے نہیں خریدتے یا پھر اس طرح کا کوئی معاملہ ہے۔


گیس کا بل 200 سے 450 ہو گیا لیکن معاملہ یہاں بھی ایسا ہی ہے۔


دودھ 70 روپے سے 100 روپے ہو گیا لیکن شائد مٹن فروش دودھ استعمال نہیں کرتا۔


چکی کا آٹا 1600 روپے من سے 2800 روپے من ہو گیا لیکن لگتا ہے کہ مٹن یا بیف فروش کو اس کی بھی ضرورت نہیں۔


چینی 55 روپے سے بڑھ کر دو سال سے 80 اور 90 روپے میں بکنے کے بعد اب 110 روپے ہو گئی ہے لیکن مٹن، بیف کی قیمت وہی ہے۔ اس طبقے کو شاید چینی کھانا منع ہے۔ اس لیے اس کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔


چاۓ دو سالوں میں 700 سے بڑھ کر 1000 روپے فی کلو کی ہو گئی لیکن حکومت اس بات پر مطمئن ہے کہ ہم نے آج پھر ایک مٹن فروش کو پکڑ کر اس کو ذلیل کرنے کے بعد اسے جرمانہ ادا کرنے پر مجبور کیا۔


سرخ مرچ 400 روپے سے بڑھ کر 700 روپے کلو ہو گئی لیکن مٹن یا بیف کے دام وہی ہیں۔


گھی 170 والا بڑھ کر 300 روپے فی کلو ہو گیا لیکن مٹن اور بیف کے دام وہی ہیں۔


صابن 50 روپے سے بڑھ کر 80 روپے کا ہے لیکن مٹن، بیف کے دام وہی ہیں۔


پٹرول 65 روپے سے بڑھ کر 110 روپے کا ہوا لیکن مجال ہے کسی نے مٹن یا بییف کے نرخ کو سر اٹھانے دیا ہو۔


دوائی کی قیمت 50 سے بڑھ کر 100 روپے ہوئی لیکن مٹن یا بیف فروش کو دوائی سے کیا غرض؟


بسوں کے کراۓ 250 تھے تو وہ دوگنا بڑھ کر 500 روپے ہو گۓ لیکن مٹن، بیف کے دام وہی ہیں۔


اس کے علاوہ تمام اشیاء جن کا آپ تصور کرسکتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ ان تمام چیزوں کو خریدنے کے لیے ایک مٹن یا بیف فروش کو پیسے ادا نہیں کرنے پڑتے یا پھر ان چیزوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔


تنخواہ دار طبقے کی تنخواہ مہنگائی کے سبب 30 ہزار سے 50 ہزار، 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ہو گئی لیکن مٹن بیف کے دام وہی ہیں۔ لگتا ہے مہنگائی صرف تنخواہ دار طبقے پر آتی ہے اور ان کا گزارا 2 لاکھ میں بھی نہیں ہو سکتا اور وہ حق رکھتے ہیں کہ ان کی تنخواہ آٹھ لاکھ کی جاۓ۔


چکن 150 روپے سے 350 ہو جاۓ یا 450 کا ہوجاۓ کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ اس کام کے پیچھے بڑے پیٹوں والے صدر حضرات بیٹھے ہیں جن سے حکومت کو ڈیل کر کے اپنے معاملات بھی طے کرنے ہوتے ہیں۔


ایک بکری جو دو سال پہلے 8 سے 10 ہزار روپے میں مل جاتی تھی اب بارہ، چودہ ہزار سے کم کی نہیں ملتی۔ اب اس صورت میں ایک مٹن فروش کیا کرے گا۔ کیا وہ گوشت سابقہ قیمت میں ہی فروخت کرے گا یا اپنی خرید کے مطابق قیمتِ فروخت بڑھاۓ گا۔ ظاہر ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے سرکاری ریٹ سے بڑھا کر بیچنے کی کوشش کرے گا۔


اب کچھ لوگ جو اچھی آمدن رکھتے ہیں اور وہ مٹن کو اپنی خوراک میں شامل رکھنا چاہتے ہیں وہ ضرور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اُن کو اچھا اور معیاری گوشت فراہم کیا جاۓ اور اس بات کو وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ سابقہ نرخ پر معیاری گوشت کی فراہمی ممکن نہیں۔ اس لیے وہ اپنی رضا مندی سے ذیادہ قیمت ادا کرتے ہیں تا کہ اُن کی اچھی غذا کا سلسلہ چلتا رہے۔ لیکن اُن افراد کی تعداد ہمارے شہر میں کچھ ذیادہ نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس شہر میں ہر قصائی عموماً دو سے ذیادہ جانور ذبح نہیں کرتا۔ ورنہ ایک جانور پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔


اب طریقہ کار کچھ یوں اپنایا جاتا ہے کہ قصاب کو جو جانور سستے داموں ملتے ہیں ان کا گوشت سرکاری ریٹ آٹھ سو روپے یا ذیادہ سے ذیادہ نو سو روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرتے ہیں۔ سستا جانور ملنے کی کچھ وجوہات ہو سکتی ہیں، یا تو وہ جانور بڑی عمر کا ہوگا یا کمزور ہو گا جس کو خوراک بہم نہ پہنچائی گئی ہو یا وہ بیمار ہو گا۔ یا پھر کسی کا جانور جو کسی بیماری کی وجہ سے ذبح ہو گیا ہو۔


کچھ جانور بالکل ٹھیک ہوتے ہیں لوگوں نے اپنے شوق یا عیدِ قرباں پر بیچنے کی غرض سے رکھے ہوتے ہیں اور اُن کی مکمل خدمت ہو رہی ہوتی ہے لیکن ان کے ساتھ اچانک کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ اسی دن ذبح کرنے پڑٓ جاتے ہیں۔ بہر حال صورت کچھ بھی ہو ایسے تمام جانور گوشت فروش کو سستے داموں مل جاتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایسا اتفاق روزانہ کی بنیاد پر ہو۔ اب قصاب چھوٹی عمر کے زندہ جانور جن کو 'دوندا' یا 'چوگا' کہا جاۓ اور ان کی صحت بھی اچھی ہو، طلب کو پورا کرنے کے لیے خریدتے ہیں اور ساتھ امید رکھتے ہیں کہ کوئی سستی قیمت والا مل گیا تو اس کے اضافی داموں کی کسر نکل آۓ گی۔ ایسے جانور یقینی طور پر مہنگے ملتے ہیں۔ 


اور ان کے مہنگا ہونے کی دوسری وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ صحت مند جانور میں چربی کی مقدار نسبتاً ذیادہ ہوتی ہے جو اس کے جسم میں موجود ہونے کی وجہ سے جسم کو بڑا کر کے ظاہر کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے زندہ جانور کی چربی بھی گوشت کی قیمت میں ہی خریدی یا فروخت کی جاتی ہے۔ لیکن گوشت خریدنے والا عام صارف چربی کو خریدے گۓ وزن میں لینا پسند نہیں کرتا۔ عام صارف کا یہ رویہ بھی گوشت کی قیمت میں اضافہ کی ایک وجہ ہے۔ کیونکہ قصاب نے تو چربی بھی گوشت کی قیمت میں ہی خریدی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے قصائیوں کے گھر سے چربی سے بنا گھی جسے ڈَل کہا جاتا ہے، آج بھی ملتا ہے جو کہ نہ بِکنے والی چربی کو پگھلا کر بنتا ہے۔ اس کی قیمت بھی ساٹھ، ستر یا اسی روپے فی کلو سے ذیادہ نہیں۔


اس سارے پسِ منظر کو سامنے رکھتے ہوۓ شہر کے دوکاندار حضرات یا روزانہ کی بنیاد پر خریدنے والے گاہکوں کو مہنگے جانوروں کا گوشت ان کی پسند کے حصے سے اضافی قیمت پر یعنی ایک ہزار روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے۔ ایسے گاہک اپنی خوشی سے اضافی قیمت ادا کرتے ہیں تا کہ وہ اپنے غذائی معیار کو برقرار رکھ سکیں۔ لیکن اس گوشت میں بھی چربی کی معمولی مقدار اور جس حصے کو گاہک پسند کرے اس کے ساتھ لگے پہلو یعنی پلّو کا معمولی حصہ شامل ہوتا ہے۔ اسی مہنگے جانور کا گوشت اگر مکس صورت میں یعنی قصائی اگر اپنی مرضی سے مختلف اعضاء سے جس میں چربی، پہلو یعنی پلّہ اور سینہ وغیرہ شامل ہو سکتا ہے تیار کرکے دے تو قیمت نو سو روپے فی کلو کے حساب سے وصول کرتا ہے۔


اب آئیے ایک واقعہ کی طرف جو کہ 3 اپریل بروز ہفتہ رونما ہوا۔ اُس قصاب نے ایک ہی پہارُو یعنی بکری ذبح کی ہوئی تھی۔ جس کی لاگت بیس ہزار روپے تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک اچھی صحت کا حامل جانور تھا۔ اسی جانور میں سے اس قصاب نے اپنے پہلے گاہک کو 13 کلو گوشت 900 روپے کے حساب سے دیا۔ جس میں چربی کی ایک مناسب مقدار بھی شامل تھی اور وہ گوشت کسی ایک حصے کا نہیں تھا۔ ظاہر ہے 13 کلو کا وزن آدھے جانور سے ذیادہ حصے پر مشتمل ہو گا۔ 


قصاب نے 13 کلو گوشت 900 کے حساب سے کاٹ کر لفافے میں ڈال کررکھا۔ گاہک نے پیسوں کا حساب کر کے پیسے ادا کرنے کے بعد فرمائش کی کہ اسے تھوڑی سی چربی اور دی جاۓ۔ قصاب نے چربی کا تقریباً 8 انچ کا ٹکڑا کاٹ کر لفافے میں رکھ دیا۔ اور وہ گاہک گوشت لے کر چلا گیا۔ 


کچھ دیر کے بعد شہر کوٹ مومن کے چناب بازار میں موجود ایک پنسار سٹور کی طرف سے ایک اور شخص گوشت خریدنے کی غرض سے قصاب کی دوکان پر پہنچتا ہے۔ جو کبھی کبھی اسی قصاب سے اور کبھی دوسرے قصائیوں سے اپنی پسند کے حصے کا معیاری گوشت 1000 روپے فی کلو کے حساب سے خریدا کرتا ہے۔ اس نے مطالبہ کیا کہ اسے دستی کا گوشت دیا جاۓ اور ساتھ یہ کہ چربی بالکل بھی شامل نہ کی جاۓ۔ مزید یہ کہ دستی کے ساتھ لگے ہلکے سے پلّو کو بھی پہلے اتار لیا جاۓ اور اسے صاف کی ہوئی قیمہ نما صرف سرخ بوٹیوں کا ایک کلوگوشت دیا جاۓ۔ قصاب نے کہا "مولوی صاحب انج تے وارا نہیں کھاندا"۔ یعنی مولوی صاحب اس طرح تو وارا نہیں کھاتا۔ مولوی صاحب یعنی اس گاہک نے کہا "یار توں دو سو ودھ لے لویں، توں مین انج ای بنڑا دے"۔ یعنی یار تو 200 ذیادہ لے لینا لیکن مجھے اسی طرح بنا دو۔ قصاب کو اطمینان ہو گیا کہ ٹھیک ہے وہ ذیادہ پیسے دے رہا ہے جس سے میری کسر نکل جاۓ گی۔ اس نے ایسا ہی کیا اور ایک کلو گوشت اس کی خواہش کے مطابق بنا دیا۔


جب پیسے دینے کی باری آئی تو وہ شخص جو پوری ایک مٹھی داڑھی شریف چہرے پر سجاۓ کھڑا تھا اور شہر کے لوگ جانتے ہیں کہ وہ صوم و صلوٰت کا پابند ہے اور ایک مذہبی جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اتنی خوبیوں کا حامل شخص یقیناّ اچھا شہری ہو گا اور اپنے وعدے کی پاسداری سے متعلق حکم کو جانتا ہو گا۔ جس میں کہا گیا کہ " اپنے وعدے کو پورا کرو کیونکہ وعدوں کے متعلق تم سے پوچھا جاۓ گا"۔ اس نے حسبِ معمول ایک ہزار روپیہ دوکاندار کو دینے کی کوشش کی۔ تو ان پڑھ، گنوار، جاہل اور دین سے نابلد قصاب نے اسے اس کا وعدہ یاد دلایا۔ اور کہا "مولوی صاحب ایہہ چنگا انصاف کر رہ او، تسی آپ نہیں آکھیا کہ دو سو ودھ لے لویں؟" مولوی صاحب نے ایک سو روپیہ مزید دیا اور غصے سے تلملاتے ہو ۓ اسسٹنٹ کمشنر آف کوٹ مومن کے دفترکی طرف چل دیے۔ وہاں جا کر شکایت کی کہ فلاں قصاب نے انہیں 1100 روپے فی کلو گوشت دیا ہے۔


اے سی صاحب نے اس قصاب کو پکڑ کر لانے کا حکم صادر کیا۔ حکم کے مطابق کاروائی عمل میں لائی گئی۔ تھوڑی دیر بعد اے سی کے دفتر میں موجود تمام افراد کی نظروں کے سامنے ایک ظالم قصائی کھڑا تھا۔ جو اسے طنزیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے اور اپنی حقارت کا اظہار اپنی زبان سے بھی کر رہے تھے۔ اور اس کو اس کے کیے گۓ ظلم کا احساس بھی دلا رہے تھے۔ خیر اے سی صاحب نے اس سے پوچھا کہ کیوں ایسا کیا جس کے جواب میں اس نے واقعہ کی تفصیل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اس نے گاہک سے اتنے پیسوں کا خود مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی 11 سو روپے کلو بطور نرخ کہا۔ 


دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ مولوی صاحب بھی ایک کلو گوشت میں چربی اور پلے کی مناسب مقدار جو ان کے منتخب کیے گۓ حصے کے ساتھ قدرتی طور پر موجود تھی شامل کرنے دیتے تو یقیناً ان کو بھی 900 روپے فی کلو کا ہی ملنا تھا۔ 


خیر مذکورہ ایک کلو گوشت کا دوبارہ اے سی کے کہنے پر وزن کیا گیا جو مکمل 1000 گرام تھا۔ حالانکہ صاف کیا ہوا اور کٹا ہوا گوشت تقریباً 900 گرام رہ جاتا ہے۔ اس گوشت کو چونکہ صاف کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی کیونکہ اس کے ساتھ صاف کرنے والی کوئی چیز نہیں تھی اس لیے اس کا وزن ابھی تک پورا ایک کلو تھا۔ اس گوشت میں ہڈی بھی براۓ نام تھی جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ دستی کے گوشت میں ہڈی ایک پتلی پلیٹ کی  صورت میں ہوتی ہے جو وزن میں بہت ہلکی ہوتی ہے اس ہڈی کا تقریباً چوتھائی حصہ لچکدار ہونے کی وجہ سے ویسے بھی کھایا جاتا ہے۔ اس بات کا اعتراف خود اے سی صاحب نے بھی کیا کہ تیار کیا ہوا کلوگوشت تقریباً 100 گرام کم ہوتا ہے اور یہ کہ گوشت واقعی اچھا اور معیاری ہے۔


اس کے بعد پہلا کام یہ کیا گیا کہ سرکاری نرخ سے ذیادہ وصول کی گئی رقم یعنی 300 روپے قصاب سے لے کر مولوی صاحب کو دی گئ اور قصاب کو کہا گیا کہ یا تو 1 ماہ کی جیل بھگتو یا 50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرو۔ کیونکہ جب کوئی شکایت لے کر آ جاۓ توسرکار کی طرف سے اتنی سختی ہے کہ ہمیں شکایت کے مطابق کاروائی کرنی پڑتی ہے۔ اس پر قصائی پر کیا گزری وہی جانتا ہے۔ خیر منتیں کرنے کا مرحلہ شروع ہوا اوریقیناً غلطی کو اپنا ماننے اور منت سماجت کرنے کے نتیجے میں بالآخر 10 ہزار روپے ادا کرنے کا کہا گیا۔ جس پر مزید کوشش کی گئی اور جرمانہ 5 ہزار کرنے کی درخواست کی گئی۔ جو اے سی صاحب نے منظور کر لی۔ اس طرح قصاب 5 ہزار روپے جرمانہ ادا کر کے اور جرمانے کی رسید ہاتھ میں تھامے اپنی دوکان پر دوبارہ پہنچنے میں کامیاب ہوا۔


قارئین کرام! اس واقعہ کے بارے میں اپنی راۓ کا ضرور اظہار کیجیے۔ سزا کا حقدار قصائی ہے یا مولوی صاحب ہیں جنہوں نے پہلے خود ہی اپنی منشاء کے مطابق گوشت حاصل کرنے کے لیے ذیادہ پیسے دینے کی پیش کش کی اور پھر اس سے مکر گۓ۔ اور پھر قصائی کے کہنے پر ایک سو روپیہ دے کر اے سی صاحب سے شکایت کرنے چلے گۓ۔ کیا ایسی صورت میں مولوی صاحب کا شکایت کرنا بنتا تھا؟ اور اس شکایت پر افسرانِ بالا کا قصاب کو سزا دینا ٹھیک تھا؟


جانوروں کی قیمتِ خرید میں اضافے کے اسباب 


مختلف اسباب میں ایک سبب روز مرہ کی بنیاد پربڑھتی ہوئ مہنگائی ہے۔ جس کی وجہ سے جانوروں کو پالنا مشکل ہو رہا ہے۔ خود جانوروں کی خوراک مہنگے داموں خریدے جانے سے بھی ان کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔


اور ان کے مہنگا ہونے کی دوسری وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ صحت مند جانور میں چربی کی مقدار نسبتاً ذیادہ ہوتی ہے جو اس کے جسم میں موجود ہونے کی وجہ سے جسم کو بڑا کر کے ظاہر کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے زندہ جانور کی چربی بھی گوشت کی قیمت میں ہی خریدی یا فروخت کی جاتی ہے۔ لیکن گوشت خریدنے والا عام صارف چربی کو خریدے گۓ وزن میں لینا پسند نہیں کرتا۔ عام صارف کا یہ رویہ بھی گوشت کی قیمت میں اضافہ کی ایک وجہ ہے۔ کیونکہ قصاب نے تو چربی بھی گوشت کی قیمت میں ہی خریدی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے قصائیوں کے گھر سے چربی سے بنا گھی جسے ڈَل کہا جاتا ہے، آج بھی ملتا ہے جو کہ نہ بِکنے والی چربی کو پگھلا کر بنتا ہے۔ اس کی قیمت بھی ساٹھ، ستر یا اسی روپے فی کلو سے ذیادہ نہیں۔


تیسرا سبب یہ ہے کہ کچھ علاقوں میں گوشت فروش جانور کی کھال اتارنے کےبعد اس کے پورے جسم کی نسوں میں پانی بھر کر وزن میں اضافہ کرتے ہیں۔ جس وجہ سے ان کو منڈیوں میں مہنگے داموں جانور خریدنے میں پریشانی نہیں ہوتی۔ یہ مکروہ فعل آج تک کی تاریخ میں ہمارے شہر کوٹ مومن میں نہیں پایا گیا۔


چوتھا سبب یہ ہے کہ ہمارے علاقے کی چھوٹی منڈیوں میں سے بڑے شہروں کے بیوپاری اور قصاب گاڑیاں بھرکر اپنے شہروں میں لے  جاتے ہیں۔ جہاں وہ 12 سو سے لے کر 1400 روپے فی کلو کے حساب سے گوشت فروخت کرتے ہیں۔ کچھ آن لائن کاروبار کرنے والے 2000 روپے فی کلو کے حساب سے بھی فروخت کرتے ہیں۔ آپ لوگ نیٹ پر سرچ کر کے اپنی تسلی کر سکتے ہیں۔ کچھ نمونے نیچے دیے گۓ ہیں۔ یہ تمام لوگ ہمارے شہروں کے قصابوں کو خریداری نہیں کرنے دیتے اور ذیادہ قیمت ادا کر کے جانور خرید لیتے ہیں۔ چھوٹے شہروں کے قصاب ان کے مقابلے میں چند جانور اپنے روزانہ کے گاہکوں کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے اضافی قیمت میں خریدتے ہیں۔

اشرف مٹن شاپ

Products – M.AshrafMuttonShop  ویب سائٹ وزٹ کیجیۓ

  M.Ashraf Mutton Shop | Facebook  فیس بک پیج وزٹ کیجیۓ



میٹ ون

 Welcome to MeatOne ویب سائٹ وزٹ کیجیۓ



زینتھ میٹ

    Zenith Official | Facebook فیس بک پیج وزٹ کیجیۓ

ان لوگوں کو اگر اُن کی اپنی منڈیوں تک محدود کیا جاۓ تو مقامی قصائیوں کی خرید میں واضح کمی آنا یقینی بات ہے۔


آپ کی دلچسپی اگر قائم ہے تو پڑھیے

گاہک مکس گوشت لینا کیوں پسند نہیں کرتا؟ کیا سینہ کا گوشت، گوشت نہیں ہوتا یا اس میں غذا پوری نہیں ہوتی۔ فرق صرف اتنا ہے اس میں ہڈی کی مقدار ذرا ذیادہ ہوتی ہےورنہ لذت میں وہ بھی اپنا جواب نہیں رکھتا۔ دوسری بات یہ کہ سینہ کی ہڈی کا وزن دوسری ہڈیوں کی طرح نہیں ہوتا۔ گاہک اس بات کو نظر انداز کرتا ہے جو کہ دانشمندانہ خیال نہیں۔


قارئین کرام! میں یہاں یہ بات ضرور کہوں گا کہ اکثر لوگ سالوں گوشت کھانے کے باوجود اچھے گوشت کی خود پہچان نہیں رکھتے۔ انہیں اس بات میں تسلی ہوتی ہے کے ان کے جس قصاب کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں وہ انہیں جو گوشت اچھا کہہ کر دے گا تو وہ اچھا ہی ہو گا اور ایک بڑی تعداد جانور کے ذیادہ لذت والے حصوں کو بھی نہیں جانتی۔


 اکثریت کا رجحان ران کے گوشت کی طرف ہوتا ہے جس وجہ سے اس کی خرید ذیادہ ہوتی ہے۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ دوسرے اعضاء کے مقابلے میں ران کے گوشت کی لذت کم ہوتی ہے۔ سینہ کا گوشت ران کے مقابلے میں ذیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ گوشت کی لذت کی طرف دھیان دینے والے لوگوں کا انتخاب مچھلی، پٹھ، چانپ، سینہ، دستی اور گردن ہوتا ہے۔ جن میں دستی اور گردن لذت کے اعتبار سے بلاشبہ ذیادہ پسندیدہ حصے شمار ہوتے ہیں۔


آپ کی مخلصانہ راۓ اور تجاویز کا منتظر

نوید ملک

No comments :