کرناٹک ہائی کورٹ کی جانب سے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ
ہندوستان کی کرناٹک ریاست کی ایک ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ حجاب اسلام کے لئے "ضروری" نہیں ہے لیکن اس کی وجہ سے ملک بھر میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
عدالت نے کلاس رومز میں اسکارف پر پابندی کے ریاستی حکم کو بھی برقرار رکھا۔
جنوری میں کرناٹک میں اسکارف پہننے والی مسلمان خواتین کے داخلے پر پابندی لگانے کے کالج کے فیصلے سے احتجاج شروع ہوا
تھا۔ جلد ہی یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا جس کے باعث کئی روز تک اسکول اور کالج بند رہے۔
یہ معاملہ اس وقت ہائی کورٹ پہنچا جب کچھ مسلم خواتین احتجاجاً درخواستیں دائر کیں جن میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ
ہندوستان کے آئین نے انہیں سر پر سکارف پہننے کے حق کی ضمانت دی ہے۔
عدالت نے ان درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کو طلباء کے لئے وردی تجویز کرنے کا حق ہے۔
فیصلے سے قبل پیر کو حکومت نے بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی اور احتجاج روکنے کے لیے بعض علاقوں میں تعلیمی
ادارے بند کر دیے۔
امکان ہے کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔
ہندوستان میں ہزاروں لوگ جہاں مسلمان اقلیت ہیں، عدالتی کاروائی کی طرف متوجہ رہے۔
اس کیس کی پہلی سماعت کرنے والے ایک جج نے 9 فروری کو اس پر بحث ہونے والے سوالات کی "سنگینی" کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایک بڑے بینچ کے حوالے کیا تھا۔
لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران ایک متنازع عبوری حکم نامہ منظور کیا جس میں کہا گیا تھا کہ عدالت کے فیصلے تک
طالبات حجاب سمیت کوئی مذہبی لباس نہیں پہن سکتیں۔
لہٰذا کیس کی سماعت کے دوران متعدد مسلم خواتین نے کلاسوں اور یہاں تک کہ اپنے امتحانات کو بھی چھوڑ دیا۔ حکومت اور عدالت کے اس رویے نے مختلف آراء کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ناقدین اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگانے کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ایک وزیر جو مسٹر مودی کی حکومت کا حصہ ہیں نے اس حکم کا خیرمقدم کیا۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور پرہلاد جوشی نے کہا کہ میں ہر ایک سے اپیل کرتا ہوں کہ ریاست اور ملک کو آگے بڑھنے دیں، ہائی کورٹ کے حکم کو قبول کرکے ہر ایک کو امن برقرار رکھنا ہوگا۔
یہ سلسلہ کرناٹک کے اڈوپی ضلع میں اس وقت شروع ہوا جب ایک سرکاری کالج نے چھ نوعمر طالبات کو کلاس میں حجاب پہننے
سے روک دیا۔
کالج انتظامیہ کے مطابق طالبات کو کیمپس میں حجاب پہننے کی اجازت ہے اور پابندی صرف کلاس روم کے اندرہے۔ لیکن طالبات
جنہوں نے کالج کی وردی پہنی ہوئی تھی، نے کالج کے باہر ہڑتال شروع کردی اور یہ مطالبہ کیا کہ انہیں کلاس روم میں اپنے بال ڈھانپنے کی اجازت دی جائے۔
اڈوپی کرناٹک کے فرقہ وارانہ طور پر حساس ساحلی علاقے کے تین اضلاع میں سے ایک ہے جو مسٹر مودی کی دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا گڑھ ہے۔
یہ مظاہرے جلد ہی ریاست کے دیگر کالجوں میں پھیل گئے جن پر بی جے پی کا کنٹرول ہے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ہندو طالبات نے زعفرانی شال پہن کر کلاس میں جانا شروع کردیا - اس رنگ کو ہندو علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے - جس نے اعلی عہدیداروں کویہ کہنے پر مجبورکیا کہ دونوں مذہبی لباس کو کیمپس میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔
نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے بھارت کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ "مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک" کو روکنے کے لیے کچھ کریں۔


No comments :