دوسری جنگ عظیم کا برطانوی فضائی افسر اور اسلام آباد کی تعمیر

دوسری جنگ عظیم کا برطانوی فضائی افسر اور اسلام آباد کی تعمیر

دوسری جنگ عظیم کا برطانوی فضائی افسر اور اسلام آباد کی تعمیر

برِگڈن نے مارچ 1962 سے اگست 1966 تک سی ڈی اے کے چیف آرکیٹیکٹ کے طور پر کام کیا۔


تالیف: سیف طاہر | ڈان نیوز

ترجمہ: پروبنگ لائٹ


اسلام آباد کا ایک فضائی منظر
تعمیر کے ابتدائی مراحل میں اسلام آباد کا ایک فضائی منظر — فوٹو - مصنف -- جیرارڈ برگڈن کے آرکائیو سے


افراتفری سے بھرپور فیض آباد انٹرچینج کو عبور کرنا اور اس کی پُرسکون شاہراہ سے خوبصورت دارالحکومت میں داخل ہونا بہت سے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث ہے جو ملحقہ راولپنڈی کی گنجان آبادی اور اس کی بے ہنگم ٹریفک کی بھول بھلیوں میں پھنسے رہتے ہیں۔


زیرو پوائنٹ اور ملحقہ سیکٹرز کی طرف بڑھتے ہوئے پختہ سڑکیں، چمکتی مارکیٹیں اور منظم ٹریفک ایک اجنبی کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اور اس کے واحد منصوبہ بند شہر اسلام آباد کی چند ابتدائی جھلکیاں ہیں۔


یہ جون کی ایک معمول کی شام تھی جب مجھے ایک دوست کی طرف سے کال موصول ہوئی جس میں پوچھا گیا کہ کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں وہ برطانیہ سے موصول ہونے والے پیکیج کی اہم اشیاء دکھا سکیں۔ ان کے مطابق "یہ باکس ایک غیر ملکی آرکیٹیکٹ کا تھا جو پاکستان میں کام کر چکا تھا"۔ وہ مجھ سے دوسرے دن گھر پر ملنا چاہتے تھے۔


اگلی شام چائے پر وہ پلاسٹک کا ایک بڑا ڈبہ لے کر آۓ جس پر 'بریگڈن' لکھا ہو تھا۔ یہ باکس کیپٹل ڈوویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور دیگر متعلقہ محکموں کے ثبت شدہ ناموں کے ساتھ نقشوں، تصاویر، ڈرائنگز اور خاکوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ لکڑی کی ایک پلیٹ تھی جس پر ’آرکیٹیکٹ جیرارڈ برِگڈن‘ کا نام درج تھا۔


جیرارڈ بریگڈن کے نام کی لکڑی کی پلیٹ - فوٹو - مصنف


باکس میں نیچے کی طرف نقشوں اور تصاویر کے ڈھیر
کے درمیان ایک ڈائری کی شکل میں کاغذات کا مجموعہ موجود تھا جس میں اسلام آباد کے تصور
سے لے کر وجود میں آنے تک کے مختلف مراحل کو بیان کیا گیا تھا، جسے اسلام آباد کے پہلے
چیف آرکیٹیکٹ جیرارڈ بریگڈن نے تحریر کیا تھا۔ میرے لیے یہ ایک حیرت کی بات تھی کہ
اس سرخ ڈبے میں دارالحکومت اسلام آباد کے شاندار فن تعمیر کی پوشیدہ کہانی موجود تھی۔


 (The inception) آغاز

بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ ایک منصوبہ بند نئے دارالحکومت کی تعمیر کا تصور 1947 میں تقسیم کے فوراً بعد پیش کر دیا گیا تھا۔ تاہم، بات چیت اور متعدد تجاویز کے باوجود 1958 میں صدر ایوب خان کے آنے تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس وقت تک ملک کا انتظام کراچی سے چلایا جا رہا تھا- جو وقت کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھتی ہوئی خوشحالی کی طرف راغب لوگوں سے بہت گنجان ہو گیا تھا۔


سِن عیسوی 1959 میں ملک کے نئے دارالحکومت کے محل وقوع کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک فیڈرل کیپیٹل کمیشن تشکیل دیا گیا۔ ٹرمز آف ریفرنس میں جغرافیائی صورتحال، آب و ہوا، مواصلاتی روابط اور سیکورٹی کی بنیاد پر سائٹ کا انتخاب کرنا تھا۔


کافی سوچ بچار کے بعد راولپنڈی سے نو میل شمال میں ایک جگہ کو حتمی شکل دی گئی۔ تجویز کردہ سائٹ جو اب موجودہ اسلام آباد کو گھیرے ہوئے ہے، سطح سمندر سے 1,600 اور 1,900 فٹ کے درمیان ایک سطح مرتفع پر واقع ہے، جو اس کے شمالی جانب ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے سے جڑی ہوئی ہے۔ جو میدان سے 3000 فٹ تک بلند ہوتے ہیں۔


انیس سو ساٹھ میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) قائم کی گئی، جس کے چیئرمین وزیر علی شیخ تھے۔ اس وقت راولپنڈی میں واقع سی ڈی اے کو نئے دارالحکومت کے ڈیزائن کے لیے معماروں کی تلاش کا کام سونپا گیا تھا۔ مقامی شہری منصوبہ سازوں کی کمی کی وجہ سے نئے دارالحکومت کے نقشہ کی تیاری کے لیے 'ڈوکسی ایڈِس ایسوسی ایٹس' نامی ایک یونانی ٹاؤن پلاننگ فرم کی خدمات کوحاصل کیا گیا۔


تعمیر کے ابتدائی مراحل میں اسلام آباد کا ایک فضائی منظر — فوٹو - مصنف -- جیرارڈ برگڈن کے آرکائیو سے


سر رابرٹ میتھیو کو ایڈمنسٹریشن سینٹر کے لیے کوآرڈینیٹنگ آرکیٹیکٹ مقرر کیا گیا تھا اور جیو پونٹی کو حکومت کے انتظامی دفاتر کو ڈیزائن کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔


کولمبو پلان کے تحت 1962 میں برطانوی حکومت نے حکومت پاکستان کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم فراہم کی جس میں ایک چیف آرکیٹیکٹ، دو آرکیٹیکٹس، ایک سٹرکچرل انجینئر، ایک کوالٹی سرویئر اور ایک کلرک آف ورکس شامل تھے۔ جیرارڈ بریگڈن، جو ٹیم میں چیف آرکیٹیکٹ تھے، کو فوری طور پر اسلام آباد کی تعمیر و ترقی کی نگرانی کے لیے سی ڈی اے میں چیف آرکیٹیکٹ مقرر کیا گیا۔


سی ڈی اے ٹیم اور آرکیٹیکٹس کا گروپ فوٹو۔ جیرارڈ اوپر کی طرف دائیں سے دوسرے نمبر پر— فوٹو - مصنف -- جیرارڈ برگڈن کے آرکائیو سے


 (The grid) گرڈ منصوبہ بندی

ڈوکسی ایڈس نے نئے دارالحکومت کو کھڑا کرنے کے لیے 'ڈِی ناپولِس' نامی ایک حکمت عملی تیار کی۔ جس کے تحت شہر کی تعمیری پیشرفت مرکزی نقطہ سے خطی انداز میں وقوع پذیر ہونا قرار پائی۔ جیسے جیسے شہر کی آبادی بڑھے گی، شہر کی تعمیر مرکز سے آگے ہی آگے بڑھے گی۔


برڈگن نے چھوٹے مرکزی بازاروں کے ساتھ مختلف شعبوں میں تقسیم ہونے والے شہر کا تصور کرتے ہوئے اصل منصوبے میں ضروری اضافہ کیا۔ بعد میں ایک بڑا تجارتی مرکز بھی منصوبے میں شامل کیا گیا۔


لہذا علاقے میں گھروں کی ضروریات کے پیش نظر ہر سیکٹر کے لیے چھوٹی دکانیں، ایک پرائمری اسکول، ایک بازار، ایک صحت مرکز، اور ایک نماز کی جگہ مختص کی گئی۔ ہر چار سیکٹرز کو ملا کر مزید وسیع سہولیات فراہم کی گئیں، جیسے ایک بڑا تجارتی مرکز وغیرہ۔


 (Challenges) مشکلات

برِگڈن کی دستاویزات میں سے ایک آدھ مکمل ٹائپ شدہ دستاویز کے مطابق، اسلام آباد میں ان کا وقت حوصلہ افزا ہونے کے باوجود مشکل تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں رائل ایئر فورس کے ساتھ اپنے ابتدائی سال گزارنے کے بعد مارچ 1962 میں پاکستان کے دارالحکومت کے چیف آرکیٹیکٹ کے طور پر تقرری سے قبل انہیں برطانیہ اور سنگاپور میں فن تعمیر کا وسیع تجربہ حاصل تھا۔


انہوں نے لکھا کہ "ابتدائی ایام میں انہیں مختلف رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ "اُن دنوں نہ کوئی مشینری تھی اور نہ ہی ٹرانسپورٹ۔ مزدوروں نے اپنے ہاتھوں سے بیلچوں اور بالٹیوں کی مدد سے بنیادیں کھودیں اور ملبہ کو گدھوں کے ذریعے ان کی پیٹھ پر رسیاں باندھ کر ہٹایا گیا"۔


انہوں نے اسلام آباد کی تعمیر کے ابتدائی دنوں کو بیان کرتے ہوئے لکھا "عمارتی سامان کو اونٹوں کے ذریعے سائٹ پر لایا جاتا تھا۔ سرکاری عمارتوں کو چھوٹی جسامت کی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔ رومی طرزکی ان اینٹوں کو سائٹ پر ہی بنایا اور پکایا جاتا تھا۔ ہر اینٹ کی پیمائش کی جاتی، رگڑ کر اسے صحیح طرز پر لایا جاتا اور جو اینٹیں مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترتیں انہیں مسترد کر دیا جاتا"۔


سیکٹر جی-7 کے لیے جیرارڈ برگڈن کا بنایا گیا گھروں کا منصوبہ۔ - فوٹو - مصنف -- جیرارڈ برگڈن کے آرکائیو سے


ٹیم کے لیے سب سے بڑا چیلنج سرکاری اہلکاروں کے لیے رہائشی کوارٹرز کی ترتیب کو ڈیزائن کرنا تھا۔ برگڈن نے بطور چیف معمار ثقافتی اقدار کے ساتھ ڈیزائن تھیوری کو یکجا کرکے ایک حل تلاش کیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی ڈائری میں لکھا، ’’میں نے علاقے کی بنیادی روایات اور ثقافت کو جاننے کے لیے مقامی دیہاتوں کا سروے کیا"۔


انہوں نے تین اہم عوامل کا حوالہ دیا جنہیں انہوں نے نئے دارالحکومت کے لیے عمارتوں کو ڈیزائن کرتے وقت مدنظر رکھا۔ سب سے پہلے تعمیراتی مواد کی دستیابی اور جدید تعمیرات میں تجربہ تھا۔ دوسرا موسمی حالات اور تیسرا اسلامی تاریخ میں تعمیراتی انداز کا حوالہ اور مستقبل کے لیے عمارتوں کی تعمیر۔


انہوں نے لکھا "سروے سے میں نے ایسے ڈیزائن تیار کیے جن میں گھر کے اندر ایک صحن کے ذریعے داخل ہوتے ہیں اور رازداری کے لیے اعلیٰ درجے کی کھڑکیاں ہوتی ہیں"۔ بریگڈن نے مکانات کو اینٹوں کی محرابی چھتوں کے ساتھ تعمیر کیا جن کو بھوسے، مٹی اور گوبر کے گارے سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ مقامی سطح پر یہ انسولیشن کا ایک روایتی اور موثر طریقہ تھا۔ چھتوں کی مزید مضبوطی اور تحفظ کے لیے بیرونی جانب ٹائلوں کی ایک تہہ لگائی جاتی تھی۔


برگڈن کے ڈیزائن کو سی ڈی اے بورڈ نے فوراً منظور کر لیا۔ بعد میں انہوں نے سیکٹر جی-6 اور جی-7 کے لیے رہائشی نقشے تیار کیے۔ ساتھ ہی شاپنگ ایریاز، پرائمری اسکول، نماز کی جگہ، محفوظ بازار اور صحت کے مراکز کے علاوہ ایک سرکاری ہاسٹل اور اراکین پارلیمنٹ کے لیے رہائشیں بھی ترتیب دیں۔


جی6 میں سی ڈی اے کورڈ مارکیٹ کی تصویر اور ڈیزائن کا خاکہ جسے جیرارڈ برگڈن نے ڈیزائن کیا ہے۔ - فوٹو - مصنف -- جیرارڈ برگڈن کے آرکائیو سے


انہوں نے اپنے ڈیزائن کے پیچھے تصورات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا، "میں چاہتا تھا کہ اسلام آباد کی عمارتوں میں شاندار مغل روایات کی عکاسی اس انداز سے ہونی چاہیے کہ یہ ایک نئی قوم اور اس کے لوگوں کے لیے قابلِ قبول ہو"۔


انہوں نے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس، سپریم کورٹ کی عمارت اور پارلیمنٹ کی عمارت کے لیے بھی اسی طرح کے نقشہ جات کی ترکیب وضع کی، لیکن حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے ان نقشہ جات کو عملی شکل نہیں دی گئی۔


ناروے کے مصنف اسٹین نیلسن نے اپنی کتاب 'دی نیو کیپیٹلز آف انڈیا، پاکستان اینڈ بنگلہ دیش' میں چیف آرکیٹیکٹ برگڈن کی جانب سے اسلام آباد کی تشکیل کو نئے دارالحکومت کی تعمیر کے لیے درست نقطہ نظر کے طور پر سراہا اور ابتدائی ہاؤسنگ ڈیزائن اور ترتیب، محفوظ بازار اور سرکاری ہاسٹل کی تعریف کی۔


جیرارڈ برگڈن کا ڈیزائن کیا گیا ایم این اے ہاسٹل کا لے آؤٹ پلان۔ - فوٹو - مصنف -- جیرارڈ برگڈن کے آرکائیو سے


جیرارڈ برگڈن کے ڈیزائن کردہ ایم این اے ہاسٹل کی تصویر۔ - فوٹو - مصنف -- جیرارڈ برگڈن کے آرکائیو سے


جب 1962 میں برِگڈن اسلام آباد پہنچے تو شہر میں بمشکل چند سڑکیں موجود تھیں۔ اگلے پانچ سالوں کے اندر ایک پورا شہر بطور ملک کا دارالحکومت، ہر قسم کے طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد سے آباد ہو گیا۔ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے لے کر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں تک، دکانوں، سکولوں اور صحت کے مراکز سے مزین ہو کرعملی شکل اختیار کرگیا۔


سپریم کورٹ کے لیے جیرارڈ برگڈن کی طرف سے تجویز کردہ ڈیزائن۔ - فوٹو - مصنف -- جیرارڈ برگڈن کے آرکائیو سے


جیسا کہ 15 اکتوبر 1963 کو پاکستان ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا، "جو پہلے ایک بھوت شہر تھا وہ اب زندگی کی آب و تاب لیے ہوۓ ہے۔ آبپارہ میں دکانیں، سکول، ڈسپنسری، ڈاکخانہ، کیفے ٹیریا جہاں ملازمین کو آباد کیا گیا ہے، زندگی کی ترقی کا خوشگوار منظر پیش کررہے ہیں"۔


برِگڈن نے مارچ 1962 سے اگست 1966 تک سی ڈی اے کے لیے چیف آرکیٹیکٹ کے طور پر کام کیا۔ حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے فنڈز دوسرے علاقوں کے لیے مختص کیے جانے لگے جس کی وجہ سے دارالحکومت کی مزید تعمیر تعطل کا شکار رہنے لگی۔ جس پربرگڈن نے پاکستان سے باہر دوسرے منصوبوں پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔


انہوں نے اپنی یادداشت میں لکھا، ’’پیچھے مڑ کردیکھوں تو میں کہوں گا کہ اسلام آباد میں میرے کیریئر کے سب سے زیادہ تسلی بخش سال تھے۔ "تمام متعلقہ افراد کا قریبی تعاون بلاشبہ بنیادی عنصر تھا جس نے عمارتوں کو ڈیزائن اور تعمیر کرنے، اور سرکاری عملے کے لیے اسلام آباد سے صرف چار سال کے عرصے میں کام شروع کرنے میں مدد کی"۔


جیرارڈ بریگڈن کی طرف سے پارلیمنٹ کی عمارت کے لیے تجویز کردہ ڈیزائن کا ایک ابتدائی خاکہ۔ - فوٹو - مصنف -- جیرارڈ برگڈن کے آرکائیو سے


 (Accolades) خراجِ تحسین

جیرارڈ برِگڈن کو بعد ازاں برطانوی حکومت کی طرف سے اسلام آباد کی تعمیر کے لیے ان کی خدمات کے بدلے آرڈر آف دی برٹش ایمپائر سے نوازا گیا۔


جیرارڈ برگڈن کو 2006 میں برطانوی ہائی کمیشن اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس کی جانب سے ایک باضابطہ استقبال کے لیے اسلام آباد واپس آنے کی دعوت دی گئی، جہاں انھیں اسلام آباد کے لیے ان کی خدمات کی یاد میں شہر کی چابی پیش کی گئی۔ بعد میں انہوں نے اس وقت کے صدر جنرل (ر) مشرف کو ایک خط لکھا، جس میں دارالحکومت اور موجودہ انفراسٹرکچر کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔


دارالحکومت کے بارے میں اپنے آخری مشاہدات میں، ترقی کی تعریف کرنے کے ساتھ، انہوں نے فن تعمیر کے امریکی تصور سے متاثر ہونے والی حالیہ تعمیرات پر بھی عدم اعتماد ظاہر کیا۔ ان کے نزدیک سات آٹھ منزلہ اور اس سے بھی اونچی عمارتیں اسلام آباد کے لیے موزوں نہیں تھیں کیونکہ ریکٹر سکیل پر 7.0 تک کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جا سکتے تھے۔ انہوں نے لکھا، "اس ممکنہ خطرے کے بارے میں میری آگاہی کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا کہ کوئی عمارت تین منزلہ اونچائی سے زیادہ نہیں بنائی جانی چاہیے اور حفاظتی اقدام کے طور پر ہر منزل پر ایک رِنگ بیم ہونا چاہیے"۔


جیرارڈ برگڈن کی بطور سی ڈی اے چیف آرکیٹیکٹ الوداعی گروپ فوٹو۔ برگڈن مرکز میں بیٹھے ہیں۔ - فوٹو - مصنف -- جیرارڈ برگڈن کے آرکائیو سے


بستر مرگ پر ہونے کے باوجود اپنی زندگی کے آخری سالوں میں بلند حوصلہ جیرارڈ برگڈن کا 2015 میں فرانس میں 92 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ان کی ذاتی متعلقات کو ٹھکانے لگانے کے دوران ان کے بیٹے کو پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی اور ان کے پاس موجود تاریخی دستاویزات کا پتہ چلا۔


انہوں نے اپنے حلقے احباب میں موجود پاکستانیوں سے اپنے والد کی یادیں اور سرمایہ عطیہ کرنے کے لیے رابطہ کیا جسکی حفاظت وہ ضروری سمجھتے تھے۔ اس طرح پاکستان کے لیے یادوں اور اہم شراکتوں سے بھرا یہ کارٹن ڈسپلے اور آرکائیونگ کے لیے ہمارے پاس آیا۔


ایک سیاسی جماعت کے طور پر جو کہ ثقافتی قدامت کے حامل افراد پر مشتمل ہے، موجودہ حکومت نے ثقافتی ورثے اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے متعدد تعمیری اقدامات کیے ہیں۔


اسلام آباد کے وجود کو تقریباً 62 سال گزر چکے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکام پاکستان کے دارالحکومت کی ترقی کے حوالے سے ایسی انمول تاریخی دستاویزات کو محفوظ کرنے کے لیے ایک مناسب طریقہ کار مرتب کریں اور ان مردوں اور عورتوں کے تعاون کو تسلیم کریں جنہوں نے اسے اس کے بچپن میں پروان چڑھایا تھا۔ ایسا نہ ہو کہ اس علمی خزانے سے آنے والی نسلیں مستفید نہ ہو سکیں۔


 (Reference) حوالہ

 سیف طاہر، 'دا برٹش ائر فورس ڈبلیو ڈبلیو ٹو ویٹرن ہُو ڈیزائنڈ اسلام آباد - پاکستان'، ڈان ڈاٹ کام (26 اکتوبر، 2022)

No comments :