کینیڈا اگلے تین سالوں میں
14 لاکھ تا رکینِ وطن کو شہریت دے گا
ملک بھر میں تقریباً دس لاکھ ملازمتوں کے مواقع
کے ساتھ، کینیڈا اپنی افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے غیر ملکیوں کی
طرف رجوع کر رہا ہے اور اس نے اگلے تین سالوں کے لیے بے مثال امیگریشن کے اہداف مقرر
کیے ہیں۔
حکومت اپنے امیگریشن لیول پلان کے مطابق، 2023 میں
465,000 مستقل باشندوں، 2024 میں 485,000 اور 2025 میں 500,000 مستقل رہائشیوں کو راغب
کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
امیگریشن کے بارے میں کینیڈا کی حکومت کا رویہ سویڈن
اور اٹلی جیسے مغربی ممالک کی حکومتوں کے بالکل برعکس ہے، جہاں نو منتخب جماعتیں امیگریشن
پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہی ہیں اور تارکین وطن کو جرائم اور بد نظمی کا ذمہ دار
ٹھہرا رہی ہیں۔
وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے ٹویٹر پر کہا کہ
"ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور آنے والے سالوں میں اعلیٰ اہداف طے کریں گے، کیونکہ
امیگریشن ہماری معیشت کو بڑھانے اور کاروباری اداروں کے لیے کارکنان تلاش کرنے میں
بہت اہم ہے جن کی انہیں ضرورت ہے"۔
شان فریزر، کینیڈا کے وزیر برائے امیگریشن، مہاجرین
اور شہریت، نے منگل کو نارتھ یارک، ٹورانٹو میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا،
"دیکھو لوگو، سیدھی سی بات ہے: کینیڈا کو مزید لوگوں کی ضرورت ہے"۔ کینیڈین
اپنی لیبر فورس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، تشویشناک آبادیاتی رجحان کو دوبارہ
متوازن کرنے کے لیے اور خاندانوں کو دوبارہ ملانے کے لیے اپنی آبادی میں اضافہ جاری
رکھنے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں"۔
مسٹر فریزر نے کہا، "اگر ہم اس آبادیاتی رجحان
کو درست کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتے ہیں، تو اب سے 10 یا 15 سال بعد کی بات چیت مزدوروں
کی کمی کے بارے میں نہیں ہو گی۔ بلکہ اس بارے میں ہوگی کہ آیا ہمارے پاس اسکولوں اور
اسپتالوں اور عوامی خدمات کو فنڈز جاری رکھنے کی معاشی صلاحیت ہے یا نہیں جسے میرے
خیال میں ہم اکثر معمولی سمجھتے ہیں"۔
انہوں نے مزید کہا، "پچھلے سال، کینیڈا نے
405,000 سے زیادہ نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہا – اس طرح ہم نے کسی ایک سال میں سب
سے زیادہ لوگوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ ہمیں ملک کے ہر علاقے میں، ہر شعبے میں مزید کارکنوں
کی ضرورت ہے، چاہے وہ فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز ہوں، ٹرک ڈرائیور ہوں، گھر بنانے
والے یا سافٹ ویئر انجینئرز ہوں"۔
منسٹر شان فریزر کی نیوز کانفرنس، انگلش سب ٹائٹلز کے ساتھ:۔
کینیڈا کے پناہ گزینوں کی وکیل مورین سلکوف نے لکھا
کہ یہ پالیسی "کئی طریقوں سے معنی خیز ہے، لیکن حکومت پر زور دیا کہ وہ
"پابندیوں کی وجہ سے پناہ گزینوں کو درپیش عدم مساوات پر توجہ مرکوز کرے"۔
یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کی پروفیسر اور اسکول
کے قانونی کلینک کے ذریعے مقامی کلائنٹس کے ساتھ کام کرنے والی وکیل سلیمہ سمنانی نے
کہا کہ قومی اقدار اور تارکین وطن کا انضمام "کچھ جڑی ہوئی نسل پرستی" کو
تقویت دے سکتا ہے۔
محترمہ سمنانی، جن کا ہندوستانی خاندان کینیا سے
کینیڈا منتقل ہوا تھا جب وہ 12 سال کی تھیں، نے کہا کہ اس نے اپنی زندگی میں اس نسل
پرستی اور "سماج میں ایک طرف دھکیلے جانے" کے احساسات کا تجربہ کیا ہے مثلاً
اسکول میں غنڈہ گردی، دکان پر خریداری کرتے ہوئے اور یہاں تک کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر
سفر کے دوران امتیازی سلوک۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اس بات کو نظرانداز
نہیں کیا جا سکتا کہ ایک نئے تارکین وطن کے طور پر کینیڈا کی زندگی کو ایڈجسٹ کرنا
کتنا مشکل ہے، خاص طور پر جب آپ سفید فام نہیں ہیں"۔

No comments :